احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
آمین۰ آمین۰ والسلام، والسلام، والسلام۰ الف الف۰ سلام علیکم۰ وعلے المسیح۰ وعلے کل من لدیکم‘‘ اے خداوند رب العالمین میں کیسے سمجھ لوں کہ ایک کمزور انسان جو سیدھی سیدھی تحریرات کو بھی نہیں سمجھ سکتا۔ جو آج کچھ اور کل کچھ کہتا ہے۔ جو بڑے بڑے ارادے کرتا اور ناکام رہتا ہے۔ میں لکھتا کچھ ہوں اور وہ سمجھتا کچھ ہے۔ جو آرام طلب ہے اور عیش پسند ہے۔ جو ایک گاؤں میں بیٹھے بٹھائے محض اپنے نہ ماننے کی بناء پر تیرہ کروڑ مسلمانوں اور کل دنیا کو محروم النجات قرار دے رہا ہے۔ جو مجھ جیسے طالب حق کو جو محض قرآنی دلائل کا طالب ہے۔ مرتد اور کافر اور اپنا دشمن اور تیرا مغضوب علیہ قرار دے رہا ہے جو بہت ہی کم علم اور کم فہم زدورنج ہے۔ وہ وہی خدائی میں شریک ہے یا اس کے ماننے پر نجات منحصر ہے یا محض اس کے نہ ماننے سے تمام خداپرست اور نیک انسان ناقابل نجات اور جہنمی ہیں۔ اے خداوند اگر میری سمجھ ناقص یا کج ہے تو اسے کامل اور درست کرائے۔ خداوند تیری قدرت اور حکمت لا انتہاء ہے۔ تیری رحمت ومغفرت کی کوئی حد نہیں۔ وہ کبھی کسی ایک انسان کے ماننے یا نہ ماننے پر منحصر نہیں ہوسکتی۔ ’’تعالی اﷲ عمّا یشرکون۰ تعال اﷲ عمّا یصفون‘‘ اپنے عملوں سے کوئی نجات نہیں پاسکتا۔ ہاں تیری رحمت سے سب نجات پائیں گے۔ ہاں محمدؐ بھی تیری رحمت سے نجات پائے گا۔ ’’لا تجزی نفس عن نفس شیئاً‘‘ ۷… مہدی خونی طنز کئے جاتے ہیں مگر آپ کا یہ حال ہے کہ دنیا تباہ ہو جائے اور اپنی عید ہو۔ زلزلہ سانس فرانسسکو میں آئے یا فارموسا میں یا کولمبیا میں یا اٹلی میں۔ کہیں طاعون ہو کہیں کالرا پھیلے۔ اس کو تکذیب مرزا کا نتیجہ بتلایا جائے۔ کیا دنیا میں سوائے اس ایک جرم کے اور کوئی جرم خداوندی میں قابل سزا نہ رہا۔ کیا تمام عالم کے ہر شہر اور گاؤں میں اور ہر مقام کے ہر فرد بشر پر مرزاقادیانی کی تبلیغ اس کمال کو پہنچ چکی کہ اور سارے جرموں پر یہی ایک جرم غالب آگیا۔ کیا خداوند عالم کا کام سوائے اس کے اور کچھ نہیں رہا کہ مسیح کی خاطر تمام عالم کو تباہ کرتا پھرے۔ کیا دہریت، کفر، شرک، زنا، توہین اسلام، افتراء علی اﷲ، توہین قرآن، توہین محمد، خلاف فطرت وغیرہ کوئی جرم قابل مواخذہ نہیں رہے۔ کیا اس سے بڑھ کر خداوند عالم کی کوئی تحقیر ہوسکتی ہے کہ اس کی لا انتہاء قدرت وحکمت محض ایک مرزا کے تابع ہوگئی۔ کیا مرزاقادیانی کے لئے اس سے بڑھ کر اور کبریائی ہوسکتی ہے کہ خداوند عالم کے سارے کاموں کو مرزاقادیانی کی خوشی اور ناخوشی کے ماتحت مان لیا جائے۔ نعوذ