احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
خلاف اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ بدیہی امور اور واقعات سے انکار کرنا کذب اور سخت کفر ہے۔ خداوند عالم کو ایسا حقیر سمجھنا کہ وہ ایک انسان کے تابع ہوگیا ہے۔ نہایت ہی غضبناک شرک اور ظلم ہے۔ ۴… ’’اﷲ یحمدک من السماء۰ انت منی وانا منک۰ انت منی بمنزلۃ اولادی۰ یا شمس و یا قمر‘‘ وغیرہ متشابہات میں سے ہیں۔ ان کی بناء پر کوئی شرعی مسائل قائم کرنا غلطی ہے۔ جیسا کہ آپ شمس وقمر ہیں۔ویسے ہی آپ محمد، احمد، عیسیٰ اور ابراہیم بھی ہیں۔ ایسے ہی بہشتی مقبرہ اور تعمیر مینار ہے۔ ان تمام کو قرآنی میزان میں رکھ کر دیکھنا چاہئے۔ نزول خداوندی ہر بشر پر اس کی استعداد اور قابلیت کے مطابق ہوتا ہے۔ قرآنی وحی سب سے اعلیٰ اور مصفّے اور اجلّے ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ مرزاقادیانی کے الہامات انبیائے بنی اسرائیل کی وحی کے مشابہ ہیں۔ جس میں استعارات بعیدہ بکثرت ہیں۔ اس لئے یہ لاریب فیہ نہیں ہوسکتے۔ لارفیع ایک ہی وحی ہے جو قرآن مجید ہے۔ ہر وحی کو اس کے تابع کرنا ضروری ہے۔ محمدﷺ کا کوئی مظہر اتم نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کوئی وحی نہ اس کے ہمسر ہوسکتی ہے اور نہ اس کی ناسخ۔ یہی ایمان میرا براہین کے وقت تھا اور یہی اب ہے۔ ایک ذرہ تفاوت نہیں۔ اس نکتہ کی لاعلمی سے اکثر علماء کے لئے مرزاقادیانی کے الہامات ٹھوکر کا موجب ہوئے۔ جب بشیر کی نسبت الہامات ہوئے۔ ’’کأن اﷲ نزل من السماء‘‘ وہ ایک یوم میں ایسا بڑھے گا جیسا کہ ہفتوں میں اور ہفتوں میں ایسا جیسا کہ مہینوں میں۔ اس وقت بھی میں یہی سمجھتا تھا کہ یہ ظاہری معنوں میں کبھی پورا نہ ہوگا۔ ۵… اسلام کے دو ہی جز ہیں۔ ایمان باﷲ واحسان بالحق۔ السلام علیکم ایک ادنیٰ درجہ کا احسان ہے۔ اس لئے سلام کا ترک کرنا سخت درجہ کا بخل ہی نہیں بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ وہ شخص دشمن اور بدخواہ ہے۔ قرآن مجید نے عباد الرحمن کی پہچان یہ بتلائی ہے۔ ’’اذا خاطبہم الجاہلون قالوا سلاما‘‘ جب کفار تک سے سلام کی منا ہی نہیں تو پھر کلمہ گو مسلمان سے سلام ترک کرنا قرآن مجید کے سخت مخالف ہے اور اچھا محسن اور ہمدرد بنی نوع ہے جو ذرا سی اختلاف رائے پر بھی سلام ترک کر دیتا ہے۔ آپ خود مجھ سے دشمنی کریں۔ میری تباہی کے منتظر رہیں۔ مگر میں تو اے نورالدین تیرا وہی روحانی فرزند ہوں جو پہلے تھا۔ مسیح کا مرید ہوں اور تم سب کے لئے سلامتی اور کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔ ہاں جو امور قرآن مجید کے خلاف بدیہی طور پر معلوم ہوں تو قرآن مجید کی عظمت کو اور خداوند عالم کے جلال کو مقدمہ کر کے ان کے مقابلہ پر ضرور گستاخی کر بیٹھا