احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
۔ کیونکہ تمام امراض انسانی کا یہی ایک کامل اور یقینی نسخہ ہے۔ ’’فیہ شفاء لما فی الصدور‘‘ مولوی موصوف نے بھی اپنے وعظوں میں جب یہ ذکر غالب کیا تو مرزاقادیانی کے دیوانے اور پکے مرزائی تاڑ گئے کہ یہ تو ڈاکٹر کی تلقین ہے اور انہیں بہکانا چاہا اور کثیر التعداد ہونے کی وجہ سے غالب آگئے۔ تب تو انہوں نے قرآن مجید کے انہیں مضامین پر وعظ شروع کر دئیے۔ جن میں مرزاقادیانی کی نسبت استدلال ہوسکتا تھا اور ہر وعظ میں مرزاقادیانی کو محمدﷺ کا مظہر اتم ثابت کرنا شروع کیا۔ اس سے میرا افسوس اور مایوسی اور بھی زیادہ ہوگئے۔ پھر طرفہ تر یہ کہ جب مولوی انشاء اﷲ خان صاحب ایڈیٹرالوطن کی تحریک پر مولوی محمد علی وخواجہ کمال الدین وغیرہ نے یہ تجویز پاس کی اور شائع کی کہ ریویو آف ریلجز قادیان میں عام اسلامی مضامین شائع ہوا کریں اور خاص مرزاقایانی کے متعلق ابحاث علیحدہ ضمیمہ میں شائع ہوا کریں۔ جن کو خاص مریدوں کے نام جاری کیا جائے یا دیگر ایسے اشخاص کے نام جو اس کے خود خواستگار ہوں۔ اس تجویز کی اشاعت سے میرا دل قدرے ٹھنڈا ہوا اور میں نے کہا کہ ہماری جماعت میں عالی خیال اور عالی ظرف لوگ بھی ہیں اور اب یہ کام قرآنی رنگ اور خدائی پر چلے گا اور ہمارا پیغام احسن اور بلیغ صورت میں تمام دنیا کو پہنچے گا۔ مگر وہ تمام خوشی خاک میں مل گئی۔ جب پکّے مرزائیوں یا مرزا کے شیدائیوں نے اس تجویز کے خلاف شور مچانا شروع کیا اور وہ تجویز خاک میں مل گئی۔ مولوی محمد علی کو مرزائیوں کا شور دبانے کی غرض سے اپنے اقرار اور عقائد شائع کرنے پڑے۔ ’’انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘ انہی ایام میں میں نے تین ماہ کی رخصت استحقاقی کے لئے درخواست پیش کر دی اور دل میں آرزو تھی کہ قادیان پہنچ کر خالص قرآنی مضامین اور اسی کی ترغب اور تناسب پر لیکچر دیا کروں گا۔ ممکن تھا کہ ان لیکچروں سے ہی یہ مانو مانیا اور اکسٹریٹی دور ہوکر کل قرآن مجید کا مذاق پیدا ہو جائے۔ مگر میں زیادہ صبر نہ کرسکا اور مضامین ذیل پر ایک خط میں نے مرزاقادیانی کی خدمت میں نہایت بے قراری اور جوش کی حالت میں لکھا۔ چونکہ اصل خط کی نقل میرے پاس موجود نہیں اور میری باربار کی درخواستوں پر مرزاقادیانی نے اس کو واپس بھی نہیں کیا اور نہ نقل بھیجی اور نہ اخباروں میں شائع کرایا بلکہ اپنے خیالات سے ہی ایک اعلان البدر اور الحکم میں ۳؍مئی ۱۹۰۶ء کو شائع کرادیا۔ اس لئے میں اپنی یادداشت کی ہی بنا پر وہ خط ذیل میں درج کرتا ہوں۔