احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
کہ مرزاصاحب یہاں کوٹھی پر نہیں ہیں اور کہیں چلے گئے ہیں۔ آخر ہم دونوں ۳گھنٹے تک انتظار کرنے کے بعد گیارہ بجے کوٹھی سے واپس آئے۔ مرزا عبدالحق ہمیں اس دن نہ ملے۔ آخر ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ مرزا نے عمداً جواب دینے سے گریز کیا۔ یقینا اس معاملہ میں ضرور کچھ نہ کچھ حقیقت ہے جو کہ مرزا نے ہم کو دوبارہ وعدہ کر کے بھی جواب دینے سے گریز کیا ہے۔ سرگودھا سے واپسی پر اپنے ساتھی سمیت ربوہ (چناب نگر) اترا اور رات مہمان خانہ میں گزاری نسیم سیفی صاحب، قاضی نذیر احمد صاحب لائل پوری، میاں غلام محمد صاحب اختر سے فرداً فرداً ملاقاتیں ہوئیں۔ ان حضرات نے اصولی مباحث مسئلہ کفر واسلام، مسئلہ نبوت وغیرہ کو چھوڑ کر مولوی محمد علی صاحب کی ذات کو مرکز موضوع بنا لیا۔ سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ وہ قرآن مجید چوری لے آئے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ جو ترجمہ کرے یا جو کوئی کتاب لکھے وہ ترجمہ اور کتاب تو اسی شخص کے نام سے شائع ہوگی۔ اگر وہ قادیان کی جماعت کو ترجمہ دے آتے تو وہ اس ترجمہ کو ہرگز شائع نہ کرتے۔ وہی ترجمہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور نے مولوی صاحب کے نام سے شائع کر دیا ہے۔ اس میں کون سی قباحت ہے اور کون سی چوری ہے؟ اس طرح جماعتوں کی تعداد کی کثرت قلت چندہ کی زیادتی اور کمی پر باتیں ہوئیں۔ میں نے ہر چندان حضرات سے کہا کہ میں اس غرض کے لئے نہیں آیا میں تو صرف بعض اصولی باتوں کی تحقیق کے لئے آیا ہوں جن سے آپ لوگ عمداً گریز کر رہے ہیں۔ پھر میں نے خلیفہ ثالث سے ملاقات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ مجھے یہ سن کر نہایت ہی صدمہ ہوا کہ خانہ ساز خلافت کو خلافت راشدہ کے برابر قرار دینے والا شخص تفریح اور شکار پر ربوہ (چناب نگر) سے باہر گیا ہوا ہے۔ مجھے شکار کے حلال وحرام پر بحث کرنا مقصود نہیں۔ صرف یہ عرض کرنا ہے کہ خلفائے راشدینؓ کب تفریح کے لئے شکار کوجاتے تھے۔ پھر مسیح موعود اور خلیفہ اوّل نے کتنے دن شکار کے لئے ہفتہ میں مقرر کئے تھے؟ عبدالرحمان لائبریرین لائبریری احمدیہ انجمن اشاعت اسلام بلاک نمبر۴، ڈیرہ غازی خان ض … ٭ … ض