تاریخ اسلام جلد 3 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ہمراہ لے آئو‘ چنانچہ عبدالرحمن الداخل ربیع الثانی ۱۳۵ھ میں اندلس پہنچا اور بندر ضقات علاقہ البیرہ میں جہاز سے اترا اس کے استقبال کو ابوعثمان اور تمام ہوا خواہان بنو امیہ موجود تھے‘ ابوعثمان‘ عبدالرحمن الداخل کو البیرہ میں اپنے مکان پر لے گیا اور لوگوں کو فراہم کر کے ایک معقول جمعیت بہم پہنچا لی‘ یوسف بن عبدالرحمن اس وقت صوبہ سرقسطہ کی جانب باغیوں سے نبرد آزما تھا‘ عبدالرحمن الداخل کے داخل اندلس ہونے کی خبر سن کر اور باغیوں کو شکست دے کر طیطلہ کی جانب آیا‘ یہاں آ کر ضمیل بن حاتم سے ملا اور غلطی یہ کی کہ ان تمام قیدیوں کو جن کو جان کی امان دے چکا تھا قتل کرا دیا‘ اس سے اس کی فوج کے بہت سے سردار برہم ہوئے اور یوسف کا ساتھ چھوڑ کر البیرہ کی جانب جہاں عبدالرحمن الداخل مقیم تھا روانہ ہو گئے۔ اس خبر کے مشہور ہوتے ہی جا بجا سے عرب سردار بالخصوص یمنی قبائل جو یوسف کے خلاف تھے‘ عبدالرحمن الداخل کے جھنڈے کے نیچے آ گئے‘ اب یوسف اور ابن حاتم صرف فہری اور قیسی لوگوں کے ساتھ باقی رہ گئے‘ شامی لوگوں کی ہمدردی تو عبدالرحمن الداخل کے ساتھ ہونی ہی چاہئے تھی‘ مگر یمنی لوگ جو شامیوں کے حریف اور مخالف تھے اس لیے شامل ہو گئے کہ وہ یوسف کے مخالف تھے اور عبدالرحمن الداخل یوسف سے اندلس کی حکومت چھیننے آیا تھا‘ اس طرح فہری اور قیسی لوگوں کے سوا تمام عرب قبائل عبدالرحمن الداخل کے ہمدرد بن گئے‘ فہری اور قیسی بھی صرف یوسف اور ابن حاتم کی زبردست شخصیتوں کے سبب ان کے ساتھ تھے ورنہ وہ بھی خاندان بنی امیہ کے اس شہزادے کو پسند کرتے تھے۔ ایک یہ سبب بھی عبدالرحمن الداخل کی قبولیت کا ہوا کہ اس کے اعلیٰ اخلاق کی شہرت پہلے سے اندلس میں ہو چکی تھی اور عبدالملک بن قطن کے عہد امارت میں بعض شخصوں نے دمشق سے آ کر وہاں کے جو حالات بیان کئے تھے ان میں عبدالرحمن کو بنو امیہ کے اندر سب سے بہتر نوجوان بتایا اور یہ بھی بیان کیا تھا کہ اس کو حجازی اور یمنی عربوں سے بہت ہمدردی اور محبت ہے‘ اس شہرت نے اس وقت بڑا کام دیا اور ان لوگوں نے بھی جو بنو امیہ کے مخالف تھے‘ عبدالرحمن الداخل کو محبت کی نگاہوں سے دیکھا۔ آخر ابن حاتم اور یوسف دونوں طیطلہ سے قرطبہ کی جانب روانہ ہوئے‘ ادھر سے عبدالرحمن الداخل اپنی جمعیت کو لے کر قرطبہ کی جانب بڑھا‘ دریائے وادی الکبیر کے کنارے قرطبہ کے متصل میدان مصارت میں دونوں فوجوں کا مقابلہ عیدالاضحیٰ کے روز یعنی ۱۰ ذوالحجہ ۱۳۸ھ مطابق ۱۴ مئی ۷۵۶ء کو ہوا‘ بڑی خون ریز جنگ صبح سے شام تک رہی آخر عبدالرحمن الداخل کو فتح ہوئی‘ امیر یوسف بن عبدالرحمن کا بیٹا عبدالرحمن اور دوسرے سردار گرفتار ہوئے‘ مگر ابن حاتم اور یوسف دونوں بچ کر نکل گئے‘ ابن حاتم نے مریدہ میں اور یوسف نے جیان میں پناہ لی‘ عبدالرحمن الداخل اس میدان سے روانہ ہو کر قرطبہ میں داخل ہوا اور اعلان کیا کہ جو شخص اطاعت کا اقرار کرے گا اس کو کوئی آزار نہ پہنچایا جائے گا‘ لوگوں نے بطیب خاطر اطاعت قبول کی‘ ابن حاتم اور یوسف نے پھر فوجیں فراہم کیں مگر آخر اطاعت ہی پر رضا مند ہو گئے‘ عبدالرحمن الداخل نے ان کو اس شرط سے امان دی کہ وہ قرطبہ ہی میں سکونت اختیار کریں اور روزانہ ایک مرتبہ عبدالرحمن الداخل کے دربار میں حاضر ہو کر اپنی صورت دکھایا کریں‘ بس اس کے بعد سے عبدالرحمن الداخل اور اس کی اولاد کی حکومت اندلس میں