تاریخ اسلام جلد 3 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ایسے آئین و قوانین قائم کئے کہ مغلوں کی فوج کسی وقت بیکار نہ رہے۔ چنانچہ اس نے ایک مجموعۂ قوانین مرتب کیا اس مجموعۂ قوانین کا نام تورئہ چنگیزی تعزیرات چنگیزی ہے مغلوں میں عرصۂ دراز تک تورئہ چنگیزی کا مرتبہ مذہبی اور آسمانی کتاب کی مانند سمجھا جاتا تھا۔ تورئہ چنگیزی میں شکار کے لئے بھی آئین و قوانین درج ہیں اور مغل بادشاہ کے لئے ضروری ٹھہرایا گیا ہے کہ وہ جب فتوحات اور جنگ و پیکار سے فارغ ہو تو آئین و دستور کے موافق مع فوج شکار میں مصروف ہو۔ چنگیز خان کی خوں ریزی کے ساتھ جب اس بات پر غور کیا جاتا ہے کہ وہ متکبرانہ الفاظ کم استعمال کرتا تھا۔ تو تعجب ہوتا ہے۔ چنگیز خان جب کسی بادشاہ کے نام خط لکھتا تو اس کو اول اپنی اطاعت پر آمادہ کرنا چاہتا اور آخر میں لکھتا کہ اگر تم نے اطاعت قبول نہ کی تو اللہ جانے انجام کیا ہو۔ یہ نہ لکھتا کہ میں بہت بڑی جرار فوج رکھتا ہوں اور تم کو ہلاک کر ڈالوں گا وغیرہ اسی طرح ملکوں کی فتوحات کو بھی وہ اپنی یا اپنی فوج کی طرف منسوب نہ کرتا بلکہ یہ کہتا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے فتح عنایت کی اور اللہ تعالیٰ نے مجھ کو بادشاہ بنایا ہے۔ اپنی نسبت لمبے چوڑے القاب اور مدح و ستائش کے الفاظ نہ لکھنے دیتا۔ خود مثل دوسرے سپاہیوں کے تمام کام انجام دیتا۔ خود بھی گھوڑے پر سوار ہو کر لمبی لمبی مسافتیں طے کرتا۔ اور اپنے ہمرا ہی سواروں سے بھی بڑی بڑی منزلیں طے کراتا۔ اس کا قول تھا کہ ہم کو ہمیشہ جفا کشی اور محنت کا عادی رہنا چاہیئے۔ اسی میں ہماری سرداری اور فضیلت کا راز مضمر ہے۔ چنگیز خان خود طویل القامت اور مضبوط جسم کا شخص تھا۔ وہ ہمیشہ لڑائی کے وقت صف اول میں نظر آتا۔ اور جس طرف حملہ آور ہوتا۔ دشمن کی صفوں کو درہم برہم کر دیتا تھا۔ اس کی غیر معمولی فتوحات کا راز اس بات میں بھی مضمر ہے کہ اس کے بیٹے بھی اسی کی طرح سپاہی منش اور بہادر جنگ جو تھے۔ نیز اس نے مغلوں کی آپس کی رقابتیں دور کر کے اکثر قبائل میں جو اس کے معاون و مددگار تھے۔ اتفاق اور محبتیں پیدا کر دی تھیں۔ اس نے پانچ شادیاں کی تھیں۔ اس کی پانچوں بیویاں مختلف قبائل اور مختلف قوموں سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس طرح اس کے سسرالی قبائل بھی اس کو اپنا رشتہ دار سمجھ کر دل سے اس کی خیر خواہی میں مصروف تھے۔ تورہ چنگیزی کے قواعد و قوانین میں ایک یہ بھی اصول بیان ہوا ہے کہ بادشاہ جب کسی نئے شہر کو فتح کرے تو اول وہاں قتل عام کا حکم ضرور دے۔ جب فوج کو آزادانہ قتل عام کا موقعہ مل جائے۔ اور اس شہر کی بہت سی آبادی قتل ہو جائے تب امن و امان کا حکم دے کر باقاعدہ حاکم وہاں مقرر کرنا چاہیے۔ اس میں غالباً مصلحت یہ ہو گی کہ وہاں کی رعایا فاتحین سے مرعوب ہو جائے۔ اور پھر کبھی بغاوت و سرکشی کا ارادہ نہ کرے۔ اس قاعدے پر چنگیز خان نے اپنی تمام فتوحات میں ہمیشہ عمل کیا۔ اگر بہ نظر غور دیکھا جائے تو اس زمانے کی متمدن دنیا میں سرکشی اور سازشی کوششوں کا اسقدر عام رواج ہو گیا تھا۔ کہ کسی شہر کا کوئی حاکم اور کسی ملک کا کوئی بادشاہ باغیوں کے فتنوں سے محفوظ نظر نہ آتا تھا۔ اور آئے دن بغاوتوں اور لڑائیوں کے ہنگاموں سے مخلوق الٰہی سخت پریشان تھی۔ علویوں‘ ایرانیوں‘ شیعوں‘ فاطمیوں کے خروج کا سلسلہ کسی زمانے میں منقطع نہ ہو سکا تھا۔ عالم اسلام کے ان حالات اور دنیا کے ان واقعات سے چنگیز خان کو جب واقفیت ہوئی تو اس نے لوگوں کو خوف زدہ اور مرعوب کرنے کے لیے اصول پر عمل کرنا ضروری سمجھا اور اس طرز