احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
۳… بدر ۱۳؍ستمبر ۱۹۰۶ء میں ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کو خواب میں دیکھنے کے بعد یہ تعبیر بھی شائع کی۔ ’’دشمن کے گھر میں داخل ہونے سے مراد کوئی مصیبت یا موت ہوتی ہے۔‘‘ ۴… موت ۲۳مال حال کو۔ (تذکرہ طبع سوم ص۶۷۵) الہام مندرجہ بدر مورخہ ۲۷؍ستمبر ۱۹۰۶ء ۵… ’’ایک دم میں دم رخصت ہوا۔ نہ معلوم کس کے حق میں۔‘‘ مرزاقادیانی کا الہام دیکھو الحکم مورخہ ۳۱؍جولائی ۱۹۰۶ء۔ ۶… ’’خواب میں ڈاکٹر عبداﷲ سامنے آتے نظر آئے۔ جب قریب پہنچے تو مسکرا کر مجھے کہنے لگے کہ تار آگئی ہے۔ دو پل ٹوٹ گئے ہیں۔‘‘ (تذکرہ طبع سوم ص۶۲۴) ۷… ’’مت ایہا الخوان‘‘ مراے بڑے خیانت کرنے والے۔ (تذکرہ طبع سوم ص۷۱۳) چونکہ مرزاقادیانی کے خود اپنے الفاظ خوابات اور الہامات سے ڈرنا، متوحش رہنا، عدم تبلیغ کی حالت میں یورپ وامریکہ کو معذور سمجھنا، عبدالحکیم خاں کے حق میں دعا کرنا، بے خبر لوگوں کو معاف سمجھنا، پھر موت، تباہی اور مصیبت کا مختلف صورتوں میں سامنے آنا، موت کا اس کی دعا اور زاری کے بعد ٹلنا، رسید بودبلائے ولے بخیر گذشت اس کے بعد منہ سے نکلنا۔ صاف طور پر ظاہر ہے۔ اس لئے انجام آتھم کی طرح ہمیں ضرورت نہیں کہ پیش گوئی کی میعاد گذر جانے کے بعد ہم خود ہی مدعی بنیں اور مکرر ومبسوط اشتہارات ورسالہ جات میں شاعری انشاء پردازی اور فسانہ طرازی پر سارا زور خرچ کر کے دنیا کو دکھانا چاہیں کہ وہ ڈر گیا تھا۔ ہمیں آتھم کی طرح مرزاقادیانی کو قسم دینے کی ضرورت بھی نہیں۔ کیونکہ خود مرزاقادیانی کے بیانات پہلے ہی صاف طور پر اسی کے اخباروں میں شائع شدہ ہیں۔ عبداﷲ آتھم کے محض ڈرنے کو ناکافی سمجھ کر مخالفین نے جو شور مچایا تو مرزاقادیانی نے ان کو بے شرم، جاہل اور یہودی صفت کہا تھا۔ اب دیکھئے مرزائی اس پیش گوئی کی نسبت کیا کہتے اور کہاں تک راستی اور ایمانداری دکھاتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب ایم۔بی کے دیگر خوابات جو مرزاقادیانی کے متعلق پورے ہوچکے۔ مرزا لنگڑا ۱… مرزاقادیانی کو ایک لڑکے کی صورت میں دیکھا۔ اس کا بایاں پاؤں باہر کی طرف مڑا ہوا ہے اور ٹخنہ پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔ دیکھو (الذکر الحکیم نمبر۴ ص۵، مطبوعہ ۲۴؍مئی ۱۹۰۶ء) اس کے بعد مرزاقادیانی نقرس میں مبتلا ہوا اور اس کے پاؤں میں درد ہوا۔ دیکھو الحکم۔ ۲… میں مولوی فضل حکیم کے مکان پر گیا ہوں اور مرزاقادیانی کے خلاف ذکر ہورہا ہے۔