احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
ہوا کہ آپ کی فطرت میں شوخی اور گستاخی حد سے بڑھ گئی ہے اور اپنے تئیں کچھ خیال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ کے لئے آپ سے قطع تعلق کر دیا۔ اگر یہ صریح صریح الہامات موت کے مولوی صاحب کی نسبت نہ ہوتے تب بھی آپ کا حق نہیں تھا کہ اعتراض کرتے۔ آپ تو اپنی بدقسمتی کی وجہ سے محض بیگانہ اور بے خبر ہیں اور اس جگہ دس ہزار سے زیادہ نشان خداتعالیٰ کے ظاہر ہوچکے ہیں اور ایسا کوئی مہینہ نہیں جس میں کوئی نشان ظاہر نہیں ہوتا۔ پس یہ امر حق کے طالبوں پر مشتبہ نہیں ہوسکتا۔ ہر ایک دشمن نامراد مرے گا اور ہر ایک منکر ناکام مرے گا۔ پہلے نبیوں کے وقت میں بھی بعض بدقسمت مرتد ہوجاتے تھے۔ اگر میرے زمانہ میں بھی کوئی ’’یہود اسکریوطی‘‘ پیدا ہو جائے تو وہ خدا کے سلسلہ کو کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ وہ یہود ونصاریٰ وغیرہ جو آنحضرتﷺ کی نبوت کی نسبت مطمئن نہ ہو سکے وہ نجات پائیں گے۔ اگر یہی بات تھی تو یہود ونصاریٰ سے مقابلہ بیکار تھا۔ کیونکہ وہ لوگ اپنی دانست میں اپنے مذہب کو اچھا خیال کرتے تھے۔ اسلام کی سچائی کی نسبت وہ اپنے خیال میں مطمئن نہیں تھے۔ پس بقول آپ کے اس سے لازم آتا ہے کہ وہ سب ناجی تھے اور آنحضرتﷺ کا آنا ہی بے فائدہ تھا۔ ماسوا اس کے اگر یہی حق بات ہے کہ جس یہود ونصاریٰ کو اسلام پر تسلی نہ ہو وہ نجات یافتہ ہیں تو کیا وجہ ایسا شخص نجات نہیں پائے گا کہ مسلمانوں میں پیدا تو ہو مگر اسلام پر اس کو یقین حاصل نہیں ہوا۔ اس کے وہ مساوی ہوگا۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ ہزارہا آدمی جو میری جماعت میں شامل نہیں۔ کیا راست بازوں سے خالی ہیں تو ایسا ہی آپ کو یہ خیال بھی کر لینا چاہئے کہ وہ ہزارہا یہود اور نصاریٰ جو اسلام نہیں لائے کیا وہ راست بازوں سے خالی تھے۔ بہرحال جب کہ ’’خداتعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچتی ہے اور اس نے مجھے قبول۱؎ نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔‘‘ تو یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلا ہے۔ خدا کے حکم کو چھو۲؎ڑ دوں۔ اس سے سہل تر یہ بات ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت میں سے خارج کر دیا جائے۔ اس لئے میں آج کی تاریخ سے آپ کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں۔ ہاں اگر کسی وقت صریح الفاظ سے آپ اپنی توبہ شائع کریں ۱؎ اس قدر تو صحیح وامنا بہ مگر ان بیچاروں کا کیا قصور جن پر آپ کی دعوت نہیں پہنچی اور اگر پہنچی تو مخالف یا ضعیف وناقص صورت میں؟ (حاشیہ نمبر۲ اگلے صفحہ پر)