احتساب قادیانیت جلد نمبر 60 |
|
چند قابل غور حقائق امریکن مدعی رسالت ڈاکٹر ڈوئی کی ہلاکت کا واقعہ ان عظیم الشان نشانات میں سے ہے جو مسیح موعود کے ہاتھ پر اسلام کی تائید میں ظاہر ہوئے۔ میاں محمود احمد نے اپنی کتاب (دعوت الامیر ص۲۱۳تا۲۱۶) میں اس نشان کا ذکر حسب ذیل الفاظ میں کیا ہے۔ ’’اس وقت ڈوئی کا ستارہ بڑے عروج پر تھا۔ اس کے مریدوں کی تعداد بہت بڑھ رہی تھی اور وہ لوگ اس قدر مالدار تھے کہ ہر نئے سال کے شروع میں ۳۰لاکھ روپے کے تحائف اس کو پیش کرتے تھے اور کئی کارخانے اس کے جاری تھے۔ چھ کروڑ کے قریب اس کے پاس روپیہ تھا اور بڑے نوابوں سے زیادہ اس کا عملہ تھا۔ اس کی صحت ایسی اچھی تھی کہ وہ اس کو اپنا معجزہ قرار دیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں دوسروں کو بھی اپنے حکم سے اچھا کر سکتا ہوں۔ غرض مال، صحت، جماعت، اقتدار، ان چاروں باتوں سے اس کو وافر حصہ ملاتھا۔ (مرزا کے) اس اشتہار کے شائع ہونے پر لوگوں نے اس سے سوال کیا کہ وہ کیوں آپ (مرزاقادیانی) کے اشتہارات کا جواب نہیں دیتا تو اس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ تم فلاں فلاں بات کا جواب کیوں نہیں دیتے۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ ان کیڑوں مکوڑوں کو جواب دوں گا۔ اگر میں اپنا پاؤں ان پر رکھ دوں تو ایک دم میں ان کو کچل سکتا ہوں۔ مگر میں ان کو موقعہ دیتا ہوں کہ میرے سامنے سے دور چلے جاویں اور کچھ دن اور زندہ رہ لیں۔‘‘ …… اس کی سرکشی اور تکبر یہیں پر ختم نہ ہوا اس نے کچھ دن بعد آپ کا ذکر کرتے ہوئے آپ کی نسبت یہ الفاظ استعمال کئے۔ ’’بیوقوف محمدی مسیح‘‘ اور یہ بھی لکھا: ’’اگر میں خدا کی زمین پر خدا کا پیغمبر نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں۔‘‘ اور دسمبر ۱۹۰۳ء کو تو کھلا کھلا مقابلے پر آکھڑا ہوا اور اعلان کیا کہ ایک فرشتے نے مجھے کہا ہے کہ تو اپنے دشمنوں پر غالب آئے گا۔ گویا حضرت اقدس کی پیش گوئی کے مقابلے میں آپ کی ہلاکت کی پیش گوئی شائع کر دی۔ یہ اس کا مقابلہ جو پہلے اشارۃً شروع ہوا اور آہستہ آہستہ صراحت کی طرف آتا گیا۔ جلد پھل لے آیا اور اس آخری حملے کے بعد چونکہ وہ مقابل پر آگیا تھا۔ مسیح موعود نے اس کے خلاف لکھنا چھوڑ دیا اور ’’فانتظرانہم منتظرون‘‘ کے حکم کے مطابق خدائی فیصلے کا انتظار شروع کر دیا۔ آخر اﷲتعالیٰ جو پکڑنے میں دھیما ہے۔ مگر جب پکڑتا ہے تو سخت پکڑتا ہے۔ اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا اور وہ پاؤں جن کو وہ اس کے مسیح پر رکھ کر کچلنا چاہتا تھا اس نے معطل کر دئیے۔ اس کے مسیح پر پاؤں رکھنے کی طاقت تو اس کو کہاں مل