تاریخ اسلام جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کندی کو بھیجا۔ عمید الملک نے جمادی الآخر سنہ ۴۵۴ھ تک بغداد میں مقیم رہ کر خلیفہ کو آمادہ کرنے کی ہر طرح کی کوشش کی مگر ناکام رہا اور طغرل بیگ کی خدمت میں واپس گیا۔ طغرل بیگ نے بغداد کے قاضی القضاۃ اور شیخ ابو منصور بن یوسف کے نام عتاب آمیز خطوط روانہ کیے۔ ان لوگوں نے بارگاہ خلافت میں حاضر ہو کر خلیفہ کو لڑکی کا نکاح کر دینے کی ترغیب دی۔ خلیفہ نے دیکھ کر کہ اب یہ معاملہ طول کھینچے گا‘ اسی کو مناسب سمجھا کہ طغرل بیگ کے ساتھ لڑکی کی شادی کر دی جائے۔ علاوہ ازیں خلیفہ کی بیوی ارسلان خاتون بھی جو طغرل بیگ کی بھتیجی تھی‘ خلیفہ کو آمادہ کر رہی تھی۔ بہرحال خلیفہ قائم بامر اللہ نے طغرل بیگ کی درخواست کو منظور کر لیا اور طغرل بیگ کے وزیر عمید الملک کو شہزادی سیدہ کے نکاح کا وکیل مقرر کیا اور اس کے پاس اطلاع بھیج دی۔ چنانچہ ماہ شعبان سنہ ۴۵۴ھ میں تبریز کے کیمپ میں خلیفہ کی بیٹی اور طغرل بیگ کا نکاح ہو گیا۔ اس نکاح کے بعد طغرل بیگ نے خلیفہ اور خلیفہ کی بیٹی کے لیے مال اور اسباب اور زر و جواہر ہدیۃً بھیجے اور اپنی فوت شدہ بیوی کی تمام جاگیریں سیدہ بنت خلیفہ قائم بامر اللہ کے نام منتقل کر دیں۔ اس کے بعد محرم سنہ ۴۵۵ھ میں سلطان طغرل بیگ آرمینیا سے بغداد کی جانب روانہ ہوا اور شہزادی کی رخصتی عمل میں آئی۔ طغرل بیگ ماہ ربیع الاول تک بغداد میں رہا۔ اس کے بعد بلاد جبل کی طرف مع اپنی بیوی سیدہ خاتون کے روانہ ہوا۔ جس وقت رے میں پہنچا‘ بیمار ہو گیا اور ۸ رمضان سنہ ۴۵۵ھ کو فوت ہو گیا۔ طغرل بیگ کے کوئی اولاد نہ تھی۔ سلیمان بن دائود‘ چغری بیگ طغرل کا بھتیجا تھا اور ربیب بھی تھا۔ اسی کو عمید الملک نے تخت نشین کیا مگر لوگوں نے اس کی مخالفت کی اور خطبہ میں سلیمان کے بھائی الپ ارسلان بن دائود چغری بیگ کا نام پڑھا‘ جو خراسان کا والی اور مرو میں مقیم تھا۔ الپ ارسلان نے یہ سن کر مرو سے رے پر چڑھائی کی۔ عمید الملک نے حاضر ہو کر اظہار اطاعت کے بعد بیعت کی مگر الپ ارسلان‘ عمید الملک کی طرف سے اندیشہ مند ہی رہا۔ آخر اس نے سنہ ۴۵۶ھ میں عمید الملک کو قید کر دیا اور اپنے وزیر نظام الملک طوسی کو وزیراعظم بنایا۔ رے میں داخل ہو کر الپ ارسلان نے سیدہ بنت خلیفہ کو بڑی احتیاط اور تکریم کے ساتھ بغداد کی جانب روانہ کیا۔ بغداد میں سلاطن الپ ارسلان کے نام کا خطبہ پڑھا گیا۔ نظام الملک طوسی‘ سلطان الپ ارسلان کی طرف سے ۷ جمادی الاول سنہ ۴۵۶ھ کو بغداد میں خلیفہ کی بیعت کے لیے حاضر ہوا۔ خلیفہ نے دربار عام منعقد کیا۔ نظام الملک کو کرسی پر بٹھایا اور ضیاء الدولہ کا خطاب دیا اور سلطان الپ ارسلان کو ’’الوالدالموید‘‘ کا خطاب عطا ہوا۔ سنہ ۴۶۰ھ میں خلیفہ نے فخر الدولہ بن جہیر کو وزارت سے معزول کیا مگر ماہ صفر سنہ ۴۶۱ھ میں دوبارہ قلمدان وزارت عطا ہوا۔ سنہ ۴۶۲ھ میں محمد بن ابی ہاشم والی مکہ نے عبیدی مصری کا نام خطبہ سے نکال کر خلیفہ قائم بامراللہ اور سلطان الپ ارسلان کا نام خطبہ میں داخل کیا اور اذان سے ’’حی علیٰ خیر العمل‘‘ کو خارج کیا اور اپنے بیٹے کو بہ طور وفد سلطان الپ ارسلان کی خدمت میں روانہ کیا۔ سلطان نے خوش ہو کر خلعت عطا کیا۔ تیس ہزار دینار بطور انعام دیے اور دس ہزار سالانہ تنخواہ مقرر کی۔ سنہ ۴۶۳ھ میں حلب کے اندر بھی خلیفہ قائم بامر اللہ اور سلطان الپ ارسلان کا خطبہ پڑھا گیا۔ سنہ ۴۶۲ھ میں قیصر روم ارمانوس نے دو لاکھ فوج سے صوبہ خلاط پر حملہ کیا۔