تاریخ اسلام جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پائوں میں مارا‘ یعنی پائوں کے پنجے کو برچھے کی نوک سے چھید دیا‘ برچھے کی نوک پنجے کو چھیدتی ہوئی تلوے کے پار ہو گئی اور فرش پر جا کر رکی‘ اس زخم کے صدمے سے چند روز کے بعد آپ فوت ہو گئے۔ حجاج کے یہ مظالم جو اس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم روا رکھے‘ جس طرح حجاج کو ظالم و ملزم ثابت کرتے ہیں اسی طرح عبدالملک کو بھی مجرم ٹھہراتے ہیں‘ کیونکہ اسی نے ایسے ظالم اور سخت گیر شخص کو مکہ و مدینہ کی حکومت سپرد کی تھی ‘حجاج اور عبدالملک دونوں میں بعض خوبیاں بھی تھیں‘ جن کے مقابل اسی درجہ کی بعض برائیاں بھی نظر آتی ہیں۔ فتنہ خوارج جس زمانہ میں خلافت ابن زبیر رضی اللہ عنھما میں انحطاط کے آثار نمایاں ہوئے اور عبدالملک بن مروان کے کارندوں نے عراق و فارس میں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنھما کے خلاف اشاعتی اور سازشی کام شروع کیا‘ تو خوارج کے گروہ جو ایرانی صوبوں میں خاموش زندگی بسر کرنے لگے تھے پھر کروٹیں بدل کر ہوشیار اور مستعد کار ہونے لگے‘ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما کے قتل اور عبدالملک کے تسلط سے عراق کے اندر باغیانہ خیالات کے لوگ سرگوشیاں کرنے لگے‘ عبدالملک نے عراق پر قابض ہو کر بصرہ کی حکومت خالد بن عبداللہ کو سپرد کی تھی‘ عراق سے دمشق میں جا کر عبدالملک کی تمام تر توجہ خوارج کی طرف مبذول نہیں رہ سکتی تھی‘ کیوں کہ اس کو حجاز اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کا بھی خیال دامن گیر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے قتل سے فارغ ہو کر عبدالملک نے بصرہ و کوفہ کے عاملوں کو معزول کر کے اپنے بھائی بشیر بن مروان کو بصرہ و کوفہ دونوں مقامات کی حکومت عطا کی‘ اور حکم دیا کہ مہلب بن ابی صفرہ کو جنگ خوارج پر مامور کر کے فارس کی طرف بھیج دیا جائے کہ وہ جہاں کہیں ان کو پائے ان کا استیصال کرے‘ ساتھ ہی حکم دیا کہ مہلب کو اختیار دیا جائے کہ وہ بصرہ سے جن جن لوگوں کا انتخاب کرے اور اپنے ساتھ لے جانا چاہے لے جائے اور ایک زبردست فوج کوفہ سے بھی تیار کر کے مہلب کی کمک کے لیے بھیجی جائے تاکہ اس فتنہ کا مکمل استیصال و انسداد ہو جائے‘ یہ حکم مہلب کے نام بھی براہ راست بھیج دیا گیا۔ بشیر بن مروان کو یہ بات ناگوار گذری کہ امیر المومنین نے براہ راست مہلب کی تعیناتی کیوں کی‘ وہ چاہتا تھا کہ خوارج کی سرکوبی کا کام میرے زیر اہتمام انجام پذیر ہونا چاہیئے تھا‘ میں اپنے اختیار سے جس کو چاہتا اس کام پر مامورکرتا‘ مہلب بن ابی صفرہ عبدالملک کے حکم کی تعمیل میں بصرہ سے ایک جمعیت لے کر روانہ ہوا‘ ادھر بشیر بن مروان نے بھی کوفہ سے عبدالرحمن بن مخنف کی سرکردگی میں ایک لشکر مہلب کی کمک کے لیے روانہ کیا‘ مگر روانگی کے وقت عبدالرحمن بن مخنف سے کہا کہ میں تم کہ مہلب سے زیادہ قابل سرداری سمجھتا ہوں‘ تم اپنے آپ کو بالکل مہلب کا ماتحت ہی بنا کر نہ رکھنا‘ بلکہ اپنی رائے سے بھی کام لینا۔ عبدالرحمان بن مخنف دارہرمز میں مہلب سے جا کرملا‘ لیکن وہ اپنی فوج الگ لے کر خیمہ زن ہوا‘ اور اپنی خود مختاری کے علامات ظاہر کرنے لگا‘ چند ہی روز کے بعد اسی مقام پر خبر پہنچی کہ بشیر بن مروان فوت ہوا‘ اور مرتے وقت خالد بن عبداللہ کو اپنا قائم مقام بنا گیا ہے‘ اس خبر کو سنتے ہی اہل بصرہ بھی اور اہل کوفہ بھی اپنے اپنے