تاریخ اسلام جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
جابجا ان کا قتل عام کرایااور اس طرح ان زندیقوں کے پیچھے پڑا کہ ان کی بیخ کنی ہی کر کے چھوڑی۔ مہدی کے کارہائے نمایاں میں زندیقوں کا استیصال بھی خصوصیت سے قابل تذکرہ ہے‘ اسی سال مہدی نے مسجد حرام میں توسیع کی اور ارد گرد کے مکانات خرید کر مسجد کے احاطہ میں شامل کر دیئے۔ جرجان پر ہادی کی یورش ۱۶۷ھ میں خبر پہنچی کہ اہل طبرستان نے علم بغاوت بلند کیا ہے‘ خلیفہ نے ان کی سرکوبی کے لیے اپنے ولی عہد ہادی کو روانہ کیا‘ ہادی کے لشکر کا علم محمد بن جمیل کے ہاتھ میں تھا‘ ہادی نے طبرستان اور اس کے بعد جرجان میں امن امان قائم کیا اور باغیوں کو قرار واقعی سزائیں دیں۔ ۱۶۸ھ میں رومیوں نے اس صلح کو جو مسلمانوں کے ساتھ کی تھی‘ میعاد صلح کے ختم ہونے سے چار مہینے پہلے توڑ ڈالا‘ علی بن سلیمان والی جزیرہ و قنسرین نے یہ خبر پاکر یزید بن بدر بن بطال کو ایک زبردست فوج دے کر قسطنطنیہ کی طرف روانہ کیا‘ یزید بن بدر وہاں سے بہت سامال غنیمت لے کر واپس آیا۔ وفات مہدی خلیفہ مہدی کو تجربہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ہادی کے مقابلہ میں دوسرا بیٹا ہارون زیادہ قابل اور امور سلطنت کے انصرام کی زیادہ اہلیت رکھتا ہے چنانچہ اس نے ۱۶۸ھ میں خیال کے پختہ ہونے کے بعد ارادہ کیا کہ ولی عہدی میں ہارون کو اس کی جگہ ولی عہد بنا کر لوگوں سے بیعت لے‘ ان دنوں ہادی جرجان ہی میں مقیم تھا‘ مہدی نے اس کی طلبی کے لیے قاصد روانہ کیا‘ اس نے یہ گستاخی و شوخ چشمی دکھائی کہ اس قاصد کو پٹوا کر نکلوادیا اور باپ کے حکم کی تعمیل میں جرجان سے بغداد کی طرف روانہ نہ ہوا‘ یہ کیفیت دیکھ کر مہدی خود جرجان کی طرف روانہ ہوا‘ راستہ میں مقام باسبذان میں پہنچا تھا کہ ۲۲‘ ۱۶۹ھ مطابق اگست ۷۸۵ء میں انتقال کیا۔ ہارون رشید اس سفر میں باپ کے ساتھ تھا‘ اس نے جنازے کی نماز پڑھائی‘ اور بھائی کے پاس جرجان میں وفات پدر کی خبر بھیجی‘ ہادی نے وہاں اہل لشکر سے اپنی خلافت کی بیعت لی اور گشتی اطلاع خلیفہ مہدی کے فوت ہونے اور ہادی کے خلیفہ کی تمام اعمال کے پاس روانہ کر دیا‘ بیس روز کے بعد ہادی جرجان سے روانہ ہو کر بغداد پہنچا اور تخت خلافت پر بیٹھ کر حاجب ربیع کو خلعت وزارت عطا کیا۔ خلیفہ مہدی عباسیوں میں نہایت نیک طبیعت‘ متقی‘ سخی‘ خوش مزاج‘ بہادر اور نیک دل خلیفہ تھا‘ اس نے اپنے باپ کے زمانے میں ان خونریزیوں کو دیکھا جو علویوں کی ہو ئی تھیں‘ وہ ان خونریزیوں کو اچھا نہیں جانتا تھا‘ وہ اپنے نیک سلوک اور رفاہ رعایا کے کاموں میں کوشش کر کے لوگوں کے دل میں گھر کرنا قیام سلطنت کے لیے ضروری سمجھتا تھا اور خوف و جبر اورتشدد و قہر کو بالکل غیر ضروری جانتا تھا‘ اسی لیے اس نے اپنے ندیموں اور مصاحبوں کی مجلس میں بے تکلف بیٹھنا شروع کیا‘ اور اس سے پہلے منصور کے عہد میں ندماء اور مصاحبین پردہ کی آڑ میں بیٹھتے تھے اور خلیفہ صرف ان کی آواز سنتا اور وہ خلیفہ آواز سنتے‘ آنکھوں سے ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔ خلیفہ مہدی نے اپنے دوران حکومت میں اپنے حکم سے کسی ہاشمی کو قتل نہیں کرایا‘