تاریخ اسلام جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اپنے کاتب کے ذریعہ اس کی نگرانی کرتا تھا‘ کبھی وزیر مال اپنے نائب صوبوں میں خود مقرر کرتا تھا اور وہ اس صوبہ کے گورنر کی ماتحتی سے آزاد ہوتے‘ عام طور پر وزیر مال صوبوں کے گورنروں کو انتظام مالی میں مختار قرار دے کر انہیں کو جواب دہ اور ذمہ دار سمجھتا تھا۔ دیوان الجزیہ یا دیوان الذمام اس محکمے میں جزیہ اور ذمیوں کے متعلق کاغذات رہتے تھے‘ جزیہ کی وصولی‘ اس کا تقرر‘ جزیہ کی معافی وغیرہ سب اسی محکمے سے متعلق تھی‘ اسی محکمے کا مہتمم وزیر مال کا ماتحت سمجھا جاتا تھا‘ مگر قاضی القضاۃ کے احکام کی بھی اس کو تعمیل کرنی پڑتی تھی‘ قاضی القضاۃ کے احکام عموماً جزیہ کے کم یا موقوف کر دینے کے متعلق ہوتے تھے کہ فلاں صوبے کے فلاں فلاں اشخاص سے جزیہ وصول نہ کیا جائے وغیرہ۔ دیوان العسکر اس محکمہ میں فوجی رجسٹر رہتے تھے‘ اس محکمے کا تعلق براہ راست وزیر اعظم یا خلیفہ سے ہوتا تھا‘ فوج کی تنخواہیں بھی اسی محکمے کے ذریعہ تقسیم ہوتی تھیں‘ سپہ سالار اعظم بھی اس محکمہ کا افسر سمجھا جاتا تھا‘ مگر اس کا تعلق صرف اسی قدر ہوتا تھا کہ وہ اپنی موجودگی میں تنخواہیں تقسیم کرا دیتا تھا‘ بار برداری کے جانوروں کی خریداری‘ اسلحہ کی فراہمی‘ وردیوں کی تیاری وغیرہ کے صیغے بھی اسی محکمے سے تعلق رکھتے تھے۔ دیوان الشرطہ محکمہ پولیس کے دفاتر وغیرہ کا انتظام ایک الگ افسر کے ماتحت تھا‘ اسی کے ماتحت محتسب وغیرہ بھی ہوتے تھے‘ محکمہ پولیس کے سپاہیوں کی تنخواہیں عموماً فوجی سپاہیوں سے زیادہ ہوتی تھی اور پولیس کے سپاہیوں کو زیادہ احتیاط کے ساتھ بھرتی کیا جاتا تھا۔ دیوان الضیاع اس محکمے کے متعلق ان رقبوں اور ان علاقوں کی آمدنی کا انتظام ہوتا تھا جو عموماً صوبہ عراق میں خلیفہ کی جاگیریں سمجھی جاتی تھیں‘ ان شاہی املاک کی پیداواد کو بڑھانا‘ آباد و سر سبز رکھنا سب اسی محکمے سے متعلق تھا۔ دیوان البرید اس محکمہ کا صدر دفتر بغداد میں تھا‘ اس دفتر میں ملکوں کے نقشے‘ ڈاک خانوں کی فہرستیں اور ہر منزل اور ہر راستے کے متعلق ضروری باتیں‘ ملازمین کے لیے ہدایات‘ ملازمین اور اہلکاروں کی خدمات کی رپوٹیں اور راستوں کے امن و امان کے لیے یادداشتیں‘ غرض سب کچھ ہوتا تھا۔ دیوان النفقات محل سرائے شاہی کے مصارف‘ انعامات‘ روزینے‘ عطیات وغیرہ کے رجسٹر اس محکمے سے تعلق رکھتے تھے۔ دیوان التوقیع اس دفتر میں ہر ایک اس حکم کی نقل رکھی جاتی تھی جو خلیفہ کے دستخط یا مہر سے