تاریخ اسلام جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ہندوستان کے قلعہ میں بھیج دیا۔ دو تین سال کے بعد محمود غزنوی فوت ہو گیا اور ترکوں کا یہ قبیلہ اپنے سامنے خراسان کے میدانوں کو سہل الحصول دیکھ کر خراسان میں پھیل گیا۔ جو قبائل ان سے پہلے آ آ کر خراسان میں مصروف و غارت گری تھے‘ وہ بھی سب آ آ کر ان میں شامل ہونے شروع ہو گئے۔ محمود غزنوی کے بیٹے مسعود غزنوی نے ان کو روکا ٹوکا اور متعدد لڑائیاں ہوئیں مگر بالآخر انہوں نے غزنویوں کو خراسان سے بے دخل کر کے خراسان پر قبضہ کر لیا۔ محمود غزنوی کی اولاد دم بہ دم کمزور ہوتی گئی اور انہوں نے اس قبیلے یعنی سلجوقی سے صلح کر کے خراسان سے دست بردار ہو جانے کو غنیمت سمجھا۔ بویہ کی اولاد آپس کی خانہ جنگی میں مبتلا تھی۔ نیز اس میں سلجوقیوں کے مقابلہ کی قابلیت و ہمت بھی نہ تھی۔ لہٰذا سلجوقیوں نے حیرت انگیز طور پر ترقی کے مدارج طے کیے۔ بغداد میں چونکہ عباسی خلیفہ موجود تھا‘ اس لیے سلجوقیوں کے دلوں میں اس کا ادب بہت زیادہ تھا۔ سلجوقی قبیلہ اپنی ملک گیری کا سلسلہ شروع کرنے سے پہلے ہی نواح بخارا کے میدانوں میں اسلام کو قبول کر چکا تھا اور شیعوں کے عاثر سے متاثر نہ ہوا تھا کیونکہ ماوراء النہر اور بخارا وغیرہ میں تمام مسلمان سنی مذہب رکھتے تھے اور یہی سلجوقیوں کا مذہب تھا۔ جو لوگ بنو بویہ کے مظالم سے تنگ آ چکے تھے‘ انہوں نے بھی سلجوقیوں کو اپنے لیے فرشتہ رحمت سمجھا۔ سلجوقیوں کے سردار طغرل بیگ نے خراسان‘ آذربائیجان‘ جزیرہ وغیرہ کو اول فتح کر کے اپنی طاقت کو بڑھایا۔ اس کے بعد جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ بغداد کی طرف متوجہ ہوا۔ اس طرح دیلمیوں کو بے دخل کر کے بغداد میں خود نائب السلطنت کا مرتبہ پایا اور ایک عرصہ دراز تک اس کے خاندان میں حکومت رہی اور اس کے جانشین الپ ارسلان سلجوقی نے دریائے ڈینیوب سے دریائے سندھ تک ایک عظیم الشان سلطنت جو ہر طرح نہایت مضبوط و باہیبت تھی‘ قائم کی۔ بہرحال اب ہم کو خلیفہ قائم بامر اللہ کے بقیہ حالات کی طرف ملتف ہونا چاہیے۔ سنہ ۴۱۵ھ میں سلطان طغرل کے بھائی چغری بیگ دائود والی خراسان سے غزنوی سلطان سے صلح کی اور اسی سال ابوالفضل بیہقی نے جو سلطان مسعود غزنوی کا میر منشی تھا‘ بہ عہد سلطان ابراہیم غزنوی تاریخ بیہقی تصنیف کی۔ چغری بیگ دائود کے انتقال پر سلطان طغرل بیگ نے اپنی بھاوج‘ والدہ سلیمان سے نکاح کر لیا۔ اسی سال یعنی ذوالحجہ سنہ ۴۵۱ھ میں سلطان طغرل بیگ نے بساسیری کو جبکہ وہ کوفہ میں پہنچ کر قتل و غارت میں مصروف تھا‘ حملہ کر کے گرفتار و قتل کیا اور اس کا سر کاٹ کر بغداد بھیج دیا۔ جہاں وہ قصر خلافت کے دروازے پر لٹکایا گیا۔ محرم سنہ ۴۵۲ھ میں سلطان طغرل بیگ نے بغداد کے انتظام سے فارغ ہو کر واسط کی طرف کوچ کیا۔ وہاں کے انتظام سے فارغ ہو کر ربیع الاول سنہ ۴۵۲ھ میں بلاد جہل و آذربائیجان کی طرف روانہ ہوا۔ ۱۵ ربیع الثانی ۴۵۳ھ کو ابوالفتح بن احمد اہواز سے بغداد میں آیا اور خلیفہ نے اس کو قلمدان وزارت عطا کیا۔ چند ہی روز بعد ابو نصر بن جہیر بن مروان کو فخر الدولہ کا خطاب دے کر عہدہ وزارت دیا گیا اور ابوالفتح معزول ہو کر اہواز چلا گیا۔ سنہ ۴۵۳ھ میں سلطان طغرل بیگ نے اپنی بیوی یعنی والدہ سلیمان کے فوت ہونے پر ابو سعد قاضی رے کی معرفت خلیفہ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ اپنی بیٹی سیدہ کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ خلیفہ نے انکار کیا‘ اس کے بعد طغرل بیگ نے اپنے وزیر عمید الملک