تاریخ اسلام جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اس کو ابومسلم نے ذاتی کاوش کی بنا پر قتل کر دیا اور سفاح اس کے متعلق ابومسلم سے کوئی جواب طلب نہ کر سکا اور سفاح‘ اس کے چچا‘ اس کے بھائی بھی اپنے حوصلے بلند رکھنے اور ابومسلم کی اس خود سرانہ حکمرانی کو برداشت نہ کر سکتے تھے۔ سفاح نے جب اپنے بھائی ابو جعفر منصور کو خراسان کی طرف بیعت لینے کے لیے بھیجا اور اسی کے ہاتھ ابو مسلم کے نام سند گورنری بھیجی تو ابو مسلم کا برتائو ابوجعفر منصور کے ساتھ مؤدبانہ نہ تھا بلکہ اس کی ہر ایک حرکت سے ابوجعفر نے خود سری اور مطلق العنانی محسوس کی تھی۔ چنانچہ ابومسلم اور ابوجعفر کے درمیان دلوں میں ایک کشیدگی پیدا ہو چکی تھی۔ ابوجعفر نے جب یہ تمام حالات سفاح کو سنائے تو وہ اور بھی زیادہ اس فکر میں پڑ گیا کہ ابو مسلم کے اقتدار و اثر اور اختیار و تسلط کو کس طرح کم کرے۔ چنانچہ اس نے یہی مناسب سمجھا کہ ابو مسلم کا کام تمام کر دیا جائے۔ اسی لیے زیاد بن صالح اور سباع بن نعمان ازدی سے سفاح نے اس کام کی سفارش کی جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ غرض حالت یہ تھی کہ سفاح اور ابو مسلم کے دل صاف نہ رہے تھے۔ ابو مسلم چونکہ اقتدار پسند اور اولوالعزم شخص تھا۔ اس کو جب خلیفہ سفاح کی طرف سے شبہ پیدا ہوا تو اس نے صرف خراسان ہی پر اپنے اثر و اقتدار کو کافی نہ سمجھ کر حجاز و عراق میں بھی اپنا اثر قائم کرنے کی کوشش ضروری سمجھی تاکہ اگر ضرورت پڑے تو وہ عباسیوں کو کچل سکے۔ ایک ایسے شخص کا جو دعوت عباسیہ کو کامیاب بنا چکا تھا‘ حجاز و عراق اور تمام اسلامی ممالک میں اپنی مقبولیت بڑھانے کے کام پر مخفی طریقہ سے آمادہ ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہ تھی‘ لیکن اس کو یہ بات یاد نہ رہی کہ اس کے مقابلہ پر وہ خاندان ہے جس میں محمد بن علی اور ابراہیم بن محمد جیسے شخص یعنی بانی تحریک عباسیہ پیدا ہو سکتے ہیں اور خلافت بنو امیہ کی بربادی سے فارغ ہو کر ابھی اس پر قابض ہوئے ہیں۔ ابو مسلم نے اگرچہ سب سے زیادہ کام کیا تھا لیکن وہ اس کام میں عباسیوں کا شاگرد اور عباسیوں ہی کا تربیت کردہ تھا۔ غرض ابو مسلم نے سفاح سے حج کی اجازت طلب کی۔ سفاح نے اس کو اجازت دی اور لکھا کہ اپنے ہمراہ پانچ سو آدمیوں سے زیادہ نہ لائو۔ ابو مسلم نے لکھا کہ لوگوں کو مجھ سے عداوت ہے‘ اتنے تھوڑے آدمیوں کے ساتھ سفر کرنے میں مجھ کو اپنی جان کا خطرہ ہے۔ سفاح نے لکھا کہ زیادہ سے زیادہ ایک ہزار آدمی کافی ہیں۔ زیادہ آدمیوں کا ساتھ ہونا اس لیے باعث تکلیف ہو گا کہ سفر مکہ میں سامان رسد کی فراہمی دشوار ہے۔ ابو مسلم آٹھ ہزار فوج کے ساتھ مرو سے روانہ ہوا اور جب خراسان کی حد پر پہنچا تو سات ہزار فوج کو سرحدی مقامات پر چھوڑ کر ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ دارالخلافہ انبار کی طرف بڑھا۔ سفاح نے اپنے بڑے بڑے نامی سپہ سالاروں کو استقبال کے لیے بھیجا اور جب دربار میں حاضر ہوا تو اس کی بے حد تعظیم و تکریم کی اور کہا کہ اگر اس سال میرے بھائی ابوجعفر منصور کا ارادہ حج نہ ہوتا تو میں تم ہی کو امیر حج مقرر کرتا۔ اس طرح ابو مسلم کی امیر حج ہونے کی خواہش پوری ہونے سے رہ گئی۔ غرض دارالخلافہ انبار سے ابوجعفر منصور اور ابو مسلم دونوں ساتھ ساتھ حج کے لیے روانہ ہوئے۔ ابو مسلم خراسان سے ایک بڑا خزانہ ہمراہ لے کر آیا تھا۔ منصور کی معیت اس کو پسند نہ تھی کیونکہ وہ آزادانہ بہت سے کام جو کرنا چاہتا تھا‘ نہیں کر سکا۔ تاہم اس نے مکہ کے راستے میں ہر منزل پر کنوئیں کھدوائے‘ سرائیں بنوانے اور مسافروں کے لیے سہولتیں بہم پہنچانے کے کام شروع کرا دیے۔ کپڑے تقسیم کیے‘ لنگر خانے جاری کیے‘ لوگوں کو