تاریخ اسلام جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
نکل کر اس کو مار ڈالا۔ ابودائود نے یہ سن کر عیسیٰ بن ہامان کو قاتلین نصر کے تعاقب پر مامور کیا۔ عیسیٰ نے قاتلین نصر کو قتل کیا۔ اسی اثناء میں ابو مسلم مقام آمد میں پہنچ گیا۔ اس کے ساتھ سباع بن نعمان ازدی بھی تھا۔ سفاح نے زیادہ بن صالح اور سباع بن نعمان ازدی کو یہ سمجھا کر ابومسلم کے پاس روانہ کیا تھا کہ اگر موقع ملے تو ابومسلم کو قتل کر دینا۔ مقام آمد میں پہنچ کر ابومسلم کو کسی ذریعہ سے یہ خبر معلوم ہوئی۔ اس نے فوراً سباع کو آمد میں قید کر دیا اور وہاں کے عامل کو یہ حکم دے گیا کہ سباع کو قتل کر دینا۔ آمد سے ابو مسلم بخارا کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں اس کو زیاد بن صالح کے چند سپہ سالار ملے جو اس سے منحرف ہو کر ابومسلم کی طرف آ رہے تھے۔ زیاد‘ ابو مسلم کے بخارا پہنچنے پر ایک دہقان کے گھر میں جا چھپا۔ دہقان نے اس کو قتل کر ڈالا اور ابو مسلم کی خدمت میں لا کر پیش کر دیا۔ ابو مسلم نے قتل زیاد کی خبر ابودائود کو لکھ بھیجی۔ ابودائود مہم طالقان میں مصروف تھا‘ فارغ ہو کر کش واپس آیا اور عیسیٰ بن ہامان کو بسام کی طرف روانہ کیا مگر اس کو کچھ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ اسی زمانہ میں عیسیٰ بن ہامان نے چند خطوط ابو مسلم کے ہمراہیوں کے پاس بھیجے تھے‘ ان خطوط میں ابودائود کی برائیاں لکھی تھیں۔ ابو مسلم نے ان خطوط کو لے کر ابودائود کے پاس بھیج دیا۔ ابودائود نے عیسیٰ کو پٹوا کر قید کر دیا۔ چند روز کے بعد جب اس کو رہا کیا تو لشکر اس پر ٹوٹ پڑے اور عیسیٰ کو مار ڈالا۔ اس مہم سے فارغ ہو کر ابو مسلم مرو کی طرف واپس آ گیا۔ سنہ ۱۳۶ھ میں عبداللہ بن علی سفاح کی خدمت میں آیا۔ سفاح نے اس کو لشکر شام اور لشکر عراق کے ساتھ رومیوں کی طرف روانہ کیا۔ سفاح کا بھائی ابوجعفر منصور جزیرہ کا عامل تھا۔ اس نے اس سال سفاح کے اشارے سے حج کا ارادہ کیا اور سفاح سے اجازت طلب کی۔ سفاح نے لکھا کہ تم میرے پاس چلے آئو‘ میں تم کو امیر حج بنا کر بھیجوں گا۔ چنانچہ منصور انبار چلا آیا اور حران کی حکومت پر مقاتل بن حکیم مامور کیا گیا۔ بات یہ تھی کہ اسی سال ابو مسلم نے بھی سفاح سے حج کی اجازت طلب کی تھی۔ لہٰذا سفاح نے خود ہی اپنے بھائی منصور کو مخفی طور پر اطلاع دی کہ تم فوراً حج کے لیے تیار ہو جائو اور درخواست بھیج دو۔ اس موقع پر یہ ظاہر کر دینا ضروری ہے کہ ابو مسلم خراسانی نے دعوت عباسیہ کو کامیاب بنانے میں سب سے بڑا کام کیا تھا‘ جیسا کہ گزشتہ واقعات سے ظاہر ہے۔ اب سفاح کے خلیفہ ہو جانے اور حکومت عباسیہ کے استقلال کے بعد وہ خراسان کا گورنر بنا دیا گیا اور سفاح نے اس کے نام باقاعدہ سند حکومت بھی بھیج دی مگر ابو مسلم نے خود حاضر دربار خلافت ہو کر بیعت نہیں کی تھی۔ وہ شروع میں پہلی مرتبہ جب امام ابراہیم کی طرف سے خراسان بھیجا گیا تھا‘ اسی وقت سے اب تک مسلسل خراسان میں موجود تھا۔ اسی نے خراسان پر قبضہ کیا۔ اسی نے اپنی حکومت قائم کی اور وہی ہر طرح خراسان پر مستولی تھا۔ جب ایک ایک کر کے تمام دشمنوں کا کام تمام ہو گیا تو عبداللہ سفاح کو خیال آیا کہ ابو مسلم کی منشاء کے خلاف نہ اس کو کسی صوبہ کی حکومت پر تبدیل کر سکتا تھا نہ اس کے زور قوت کو گھٹا سکتا تھا۔ ابو مسلم اپنے آپ کو خلافت عباسیہ کا بانی سمجھتا اور اپنے آپ کو خلیفہ سفاح کا سرپرست جانتا تھا۔ وہ خلیفہ سفاح کو مشورے دیتا اور سفاح اس کے مشوروں پر اکثر عمل کرتا لیکن خراسان کے معاملات میں وہ سفاح سے اجازت یا مشورہ لینا ضروری نہ سمجھتا تھا۔ عثمان بن کثیر عباسیوں کے نقباء میں ایک نامور اور سب سے پرانا نقیب تھا‘