تاریخ اسلام جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
بن محمد کے قتل ہونے کی خبر اور بہت سے قیمتی جواہرات و زیورات جو مال غنیمت میں آئے تھے‘ لے کر قاصد پہنچا۔ سفاح نے وہ تمام قیمتی جواہرات و زیورات بھی عبداللہ بن حسنی مثنیٰ کو دے دیے اور اسی ہزار دینار دے کر وہ زیورات ایک تاجر سے عبداللہ بن حسن نے خرید لیے۔ غرضیکہ عبداللہ سفاح سے اس کام میں ذرا بھی کوتاہی ہوتی تو یقینا علوی فوراً علانیہ مخالفت پر آمادہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوتے اور اس وقت ممکن تھا کہ بہت سے نقباء بھی جو کافی اثر رکھتے تھے‘ ان کا ساتھ دیتے اور عباسیوں کے لیے اپنی خلافت کو قائم رکھنابے حد دشوار ہو جاتا۔ لہٰذا عبداللہ سفاح کے کاموں میں سب سے بڑا کارنامہ یہی سمجھنا چاہیے کہ اس نے تمام علویوں کو مال و دولت دے کر خاموش رکھا اور کسی کو مقابلہ پر کھڑا نہ ہونے دیا۔ عبداللہ سفاح کی وفات کے بعد ہی علوی خروج پر آمادہ ہو گئے مگر اب خلافت عباسیہ مستحکم ہو چکی تھی۔ ابوجعفر منصور ابوجعفر عبداللہ منصور بن محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب کی ماں سلامہ بربریہ لونڈی تھی ‘ ابو جعفر منصور ۹۵ھ میں اپنے دادا کی حیات میں پیدا ہوا‘ بعض روایتوں کے بموجب وہ ۱۰۱ھ میں پیدا ہوا تھا‘ یہ ہیبت و شجاعت و جبروت اور عقل و رائے میں خصوصی امتیاز رکھتا تھا‘ لہو و لعب کے پاس نہ پھٹکتا تھا‘ ادب و فقہ کا عالم کامل تھا‘ اس نے سیدنا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی کو عہدہ قضا کے انکار کرنے کے جرم میں قید کر دیا تھا‘ انہوں نے قید خانہ ہی میں انتقال کیا‘ بعض کا قول ہے کہ سیدنا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی نے منصور پر خروج کرنے کا فتویٰ دیا تھا اس لیے ان کو زہر دلوایا گیا‘ منصور نہایت فصیح و بلیغ اور خوش تقریر شخص تھا‘ حرص و بخل سے اس کو متہم کیا جاتا ہے۔ عبدالرحمن بن معاویہ بن ہشام بن عبدالملک اموی نے ۱۳۸ھ یعنی منصور کے عہد خالافت میں اندلس کے اندر اپنی حکومت اور خلافت قائم کر لی تھی‘ وہ بھی ایک بربریہ کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا‘ اس لیے لوگ کہتے تھے کہ اسلام کی حکو مت بربریوں میں تقسیم ہو گئی‘ ابن عساکر نے لکھا ہے کہ جب منصور طلب علم میں ادھر ادھر پھرا کرتا تھا ایک روز کسی منزل پر اترا تو چوکیدار نے اس سے دو درہم محصول کے مانگے اور کہا کہ جب تک محصول ادا نہ کرو گے اس منزل پر نہ ٹھہر سکو گے‘ منصور نے کہا کہ میں بنو ہاشم میں سے ہوں مجھے معاف کر دو‘ مگر وہ نہ مانا‘ پھر منصور نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا کے بیٹوں میں سے ہوں‘ وہ پھر بھی نہ مانا‘ منصور نے کہا کہ میں قرآن شریف جانتا ہوں مجھے معاف کر دے‘ اس نے پھر بھی نہ مانا‘ منصور نے کہا کہ عالم فقیہ اور ماہر فرائض ہوں‘ وہ پھر بھی نہ مانا‘ آخر منصور کو دو درہم دینے ہی پڑے‘ اسی روز سے منصور نے ارادہ کر لیا تھا کہ مال و دولت جمع کرنا چاہیئے۔ منصور نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے مہدی کو نصیحت کی کہ بادشاہ بغیر رعایا کی اطاعت کے قائم نہیں رہ سکتا‘ اور رعایا بغیر عدل کے اطاعت نہیں کر سکتی‘ سب سے بہتر آدمی وہ ہے جو باوجود قدرت کے عفو کرے‘ اور سب سے بیوقوف وہ ہے جو ظلم کرے‘ کسی معاملہ میں بلا غوروفکر حکم نہیں دینا چاہئے کیونکہ فکروتامل ایک آئینہ ہے جس میں انسان اپنا حسن و قبح دیکھ لیتا ہے‘ دیکھو ہمیشہ نعمت کا شکر کرنا‘ مقدرت میں عفو کرنا‘ تالیف قلوب کے ساتھ اطاعت کی امید رکھنا‘فتحیابی کے بعد تواضع اور رحمت اختیار