تاریخ اسلام جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
گا‘ اس کے چہرے پر ایک داغ ہو گا‘ اور وہ زمین کو عدل وداد سے بھر دے گا‘ یہی وجہ تھی کہ جب گھوڑے نے ان کے لات ماری ہے تو ان کے باپ ان کے چہرے سے خون پونچھتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ اگر تو وہی داغ دار ہے ۱؎ یعنی آپ کا دور خلافت بھی خیر کے پہلوئوں کے لحاظ سے ویسی ہی جھلک پیش کرتا ہے جو مجموعی طور پر اسلام کے پہلے چاروں خلفاء یعنی جناب ابوبکر صدیق‘ جناب عمر فاروق‘ جناب عثمان غنی اور جناب علی رضی اللہ عنھم کے ادوار خلافت میں نظر آتی تھی۔ تو سعادت مند ہے۔ ابن سعد رحمہ اللہ تعالی کاقول ہے کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ کاش میں اپنے اس داغ دار بیٹے کا زمانہ پاتا‘ جو دنیا کو اس طرح عدل و داد سے بھر دے گا‘ جیسا کہ وہ اس وقت ظلم سے بھری ہوئی ہو گی‘ بلال بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے چہرے پر بھی ایک داغ تھا‘ اس لیے خیال تھا‘ کہ شاید یہی بشارت عمر کے مصداق ہوں‘ لیکن سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے خلیفہ ہونے پر سب کو معلوم ہو گیا‘ کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی پیشین گوئی کے مصداق وہی تھے‘ ان سے پہلے عام طور پر لوگ آپس میں ذکر کیا کرتے تھے کہ دنیا کا خاتمہ نہ ہو گا جب تک کہ مثیل عمر رضی اللہ عنہ حاکم نہ ہوے۔ بچپن میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے باپ نے ان کو مدینہ بھیج دیا تھا‘ مدینہ میں ہی ان کی تربیت ہوئی‘ فقہائے مدینہ کی صحبت میں ان کی عمر کا ابتدائی حصہ گذرا‘ علمائے مدینہ ہی سے انہوں نے علوم دینیہ حاصل کئے‘علم و فضل اور تفقہ فی الدین میں ان کا وہ مرتبہ تھا‘ کہ اگر وہ خلیفہ نہ ہوتے تو ائمہ شرع میں ان کا شمار ہوتا اور وہ سب سے بڑے امام مانے جاتے‘ مدینہ میں ان کے والد نے ان کو عبیداللہ بن عبداللہ کے پاس بھیجا تھا‘ انہیں کے زیر توجہ ان کی تربیت ہوئی‘ زید بن اسلم نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد ہم نے بجز عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے اور کسی شخص کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے زیادہ مشابہ ہو‘ یزید رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ وہ رکوع و سجود پوری طرح ادا کرتے تھے‘ مگر قیام و قعود میں دیر نہ کرتے تھے‘ محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنھما سے کسی نے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کی نسبت سوال کیا‘ تو انہوں نے فرمایا کہ وہ بنی امیہ کے نجیب ہیں‘ اور قیامت میں بصورت امت واحدہ اٹھیں گے۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیز خلیفہ ہونے سے پیشتر نہایت پر تکلف اور قیمتی لباس پہنتے تھے‘ لیکن خلیفہ ہونے کے بعد انہوں نے کھانے اور پہننے میں بالکل درویشانہ روش اختیار کر لی تھی‘ میمون بن مہران کا قول ہے کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے ہمراہ بہت سے مشہور علماء شاگردوں کی طرح رہا کرتے تھے‘ مجاہد رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے کہ ہم عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے پاس اس خیال سے آئے کہ وہ ہم سے کچھ سیکھیں گے‘ مگر ان کے پاس آکر ہم کو خود انہیں سے بہت کچھ سیکھنا پڑا۔ جب ان کے والد عبدالعزیز بن مروان کا انتقال ہوا تو یہ مدینہ ہی میں تشریف رکھتے تھے‘ عبدالعزیز کی وفات کا حال سن کر عبدالملک بن مروان نے ان کو دمشق بلا کر اپنی بیٹی فاطمہ' کے ساتھ شادی کر دی‘ عبدالملک کی وفات کے بعد جب ولید خلیفہ ہوا تو اس نے ان کو مدینہ منورہ کا حاکم مقرر کیا‘ چنانچہ یہ ۸۶ھ سے ۹۳ھ تک مدینہ کے حاکم رہے‘