ملفوظات حکیم الامت جلد 23 - یونیکوڈ |
|
کھانا باپ کی شرکت میں رکھو لیکن اپنی آمدنی الگ رکھو '
بات وہ کرے جس میں برائی نہ آوے
ایک دیہاتی شخص اپنے باپ کی شرکت میں رہتا تھا - چاشت کی نماز کی اجازت چاہی
فرمایا کہ باپ گالیاں نہ دیں گے کہ مفت کی روٹیاں کھاتا ہے - کیونکہ وہی وقت کام کا ہوتا
ہے بات وہ کرے جس میں کوئی برائی نہ آوے - لڑائی دنگے سے کیا تو کس کام کا - ہدیہ کے
متلعق بھی فرمایا کہ جب تک باپ کے شریک ہو ایسی حرکت مت کرو - اگر ہدیہ دینا ہے
باپ سے الگ ہوجاؤ - اس نے کہا کہ ماں باپ کی نافرمانی نہ ہوگی - فرمایا نافرمانی اس کو کہتے ہیں جس میں ان کو تکلیف ہو - کیا تہمارے الگ ہوجانے میں ان کو تکلیف ہوگی اس
نے کہا کہ میں ان کی روٹیاں پکاتا ہوں ضرور تکلیف ہوگی فرمایا کہ روٹیاں پکادیا کرو - لیکن
اپنی آمدنی الگ رکھ سکتے ہو - کھانا شرکت میں رکھ سکتے ہو یہ نافرمانی نہیں -
متعارف اخلاق اور اس کی ایک مثال
فرمایا کہ آج کل متعارف اخلاق یہ ہیں کہ خواہ دل میں کدورت ہو لیکن ظاہر میں خوش
اخلاق کے ساتھ پیش آوے - لیکن مجھے یہ نہیں آتا کہ دل میں کچھ ہو اور زبان پہ کچھ - اگر کچھ
ناگواری ہوتی ہے کہہ سن کر دل صاف کرلیتا ہوں اچھا ہے صاف کر لینا چاہئے - دل کو تاکہ پھر
وہی محبت پیدا ہوجاوے - اگر کرتا میلا ہوجاوے تو ایک تو یہ صورت ہے کہ اور اجلا کرتا اوپر
سے پہن لیا اندر وہی سڑاہن رہی - ایک یہ ہے کہ دھوبی کے یہاں بھیج دیا اس پیٹ کوٹ
کر پھر صاف کردیا - پھر دیکھ لیجئے کون سی صورت اچھی ہے - ہم تو اسی کو اچھا سمجھتے ہیں -
اللہ سے تعلق پیدا کرنے کی ایک بڑے ترکیب
عسر کی شکایت پر فرمایا کہ یہ انبیاء کی سنت ہے - رزق جتنا مقدر میں ہوتا ہے اتنا ہی ملتا
ہے - اس کا کوئی خاص وظیفہ نہیں ہاں دعا کرنا چاہئے اللہ تعالیٰ سکون دے دیں گے - جب
اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھ جاتا ہے پھر پریشانی نہیں ہوتی اور تعلق پیدا کرنے کی سب سے بڑی
ترکیب یہ ہے کہ خوب مانگا کرے -