نمونے کے انسان |
زرگان د |
|
معاف کردے تو بہتر ہے،یہ بلا ٹل جائے گی،ورنہ عنایت اللہ پر ضرور تعزیر آئے گی،انہیں میںسے دو تین شخصوںنے لاہوری کو سمجھایا کہ بھائی صاحب!اب عنایت اللہ کی یہ زیادتی تم پر ہوگئی،اور انہوں نے بہت برا کیا،مگر وہ تمہارے بھائی ہیں،بہتر یہی ہے کہ اس کا قصور معاف کردو،اور خوشامد ؎ کے طور پر کچھ دینے پر راضی ہوگئے،مگر لاہوری نے کسی طرح نہ مانا،اور کہا کہ بھائیو!اب تو جوکچھ سید صاحب نے فرمایا ،میں اس پر راضی ہوں،وہاں چل کر جو کچھ ہوگا،ہورہے گا،یہاں اس معاملہ میں مجھ سے نہ بولو،وہ مجبور ہوکر چپ ہورہے،اور حافظ صابر وشرف الدین ان دونوں کو قاضی حبان کے پاس لے گئے۔ قاضی صاحب بستی کی مسجد میں تھے،اس وقت گھڑی ڈیڑھ گھڑی دن باقی ہوگا،قاضی صاحب نے پوچھا،بھائیو!اس وقت سب مل کر کہاں آئے ہو؟حافظ صابر وشرف الدین نے ان دونوں کا حال بیان کیاکہ اس طور سے لڑائی ہوئی اور جو سید صاحب نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا،وہ بھی عرض کردیا،قاضی صاحب نے لاہوری سے معاملہ پوچھا،انہوں نے شروع سے جو گزرا تھا، بیان کیا،پھر عنایت اللہ سے پوچھا،انہوں نے ویسا ہی کہا،جیسا لاہوری نے کہا تھا، قاضی صاحب نے فرمایا کہ’’اب تو اس وقت شام ہوگئی ہے،اس وقت جائو ،کل نماز اشراق کے بعد آنا، ہم تمہارا فیصلہ کردیں گے‘‘۔وہ اپنے اپنے ڈیرے پر آگئے۔ نمازمغرب کے بعد شیخ عبدالرحمان رائے بریلی والے قاضی صاحب کے پاس گئے،وہ ان کے بڑے دوست تھے،انہوں نے کہا،قاضی صاحب!کوئی تدبیر آپ ایسی کریں کہ لاہوری راضی ہوجائے،اور عنایت اللہ ذلت سے بچ جائے،اس امر میں زیادتی ضرور عنایت اللہ کی ہے، اورجو لاہوری کسی طرح نہ مانے تو پھر مجبوری ہے،پھر جو حکم شرع شریف کا ہو،وہ آپ جاری کردیں قاضی صاحب نے فرمایا:شیخ صاحب!آپ بہت اچھا فرماتے ہیں،ہم اول لاہوری کو سمجھائیں گے،حتی الامکان اس میں کمی نہ کریں گے،اگر اس نے مان لیا تو بہتر ہے،نہیں تو حکم خدا ورسول کے موافق انصاف کیا جائے گا۔ اگلے روز دو تین گھڑی دن چڑھے حافظ صابر اور شرف الدین ،لاہوری اور عنایت اللہ کو لے کر قاضی صاحب کے پاس آگئے،انہوں نے عنایت اللہ اور لاہوری کو سامنے بیٹھایا،اور پہلے