نمونے کے انسان |
زرگان د |
|
حضرات کے لئے حق گوئی میں رکاوٹ بن سکتی ہے،جن کا ایک سوٹ کم از کم دوسورپئے میں بنتا ہے،اور جوتے ،ٹوپی پرسورپئے خرچ ہوتے ہیں،اس کے برخلاف میرا معاملہ یہ ہے کہ بحمدللہ سر سے پائوں تک میرے لباس کی تیاری پربمشکل پندرہ روپئے خرچ ہوتے ہیں،اس لئے ملازمت میرے لئے رکاوٹ نہیں بن سکتی،رہا بورڈ کی رکنیت کا معاملہ تو شاید آپ کو معلوم نہیں کہ میں بفضلہ تعالی اس عہدے سے استعفا جیب میں لئے پھرتا ہوں،جب یہ رکنیت کسی دینی ضرورت کے انجام دہی میں رکاوٹ ثابت ہوگی تو ان شاء اللہ استعفا دینے کے لئے چند منٹ بھی درکار نہیں ہوںگے۔ (واضح ہوکہ بورڈ کی رکنیت کے سلسلے میں حضرت مفتی صاحب کو ماہانہ ہزار روپئے ملتے تھے) (البلاغ مفتی اعظم نمبر۔ج۱۔ص۴۳۱)مدرسہ کے باب میں استغناء: ملک کے ایک مشہور سرمایہ دار والد صاحب کے پاس تشریف لائے اور پہلے کچھ رقم بطور ہدیہ دینے کی پیش کش کی،جس سے آپ نے خوبصورتی کے ساتھ معذرت فرمالی،اس کے بعد دارالعلوم کی تعمیرات میں مؤثر حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی اوروہ اس مالی حیثیت کے آدمی تھے کہ دارالعلوم کے اس وقت کے تمام تعمیری منصوبے پورے کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے،لیکن والد صاحب کو اپنی فراست سے اندازہ ہوگیا کہ ان کی اچانک آمد اور پیش کش بلاوجہ نہیں ہے،چنانچہ آپ نے اس پیش کش سے بھی یہ کہہ کر معذرت کردی کہ بحمد للہ فی الحال مدرسہ کا کام چل رہا ہے، آپ تکلیف نہ فرمائیں،چنانچہ وہ ناکام تشریف لے گئے اور بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت والد صاحب کا یہ فیصلہ کتنا صحیح تھا۔(البلاغ مفتی اعظم نمبر۔ج۱۔ص۴۶۸)حکومت کی امداد سے احتراز : جب پاکستان غیر ملکی دفاعی معاہدوں میں شریک ہوگیا اور ایک غیر مسلم حکومت سے روابط زیادہ ہوگئے تو اسی زمانہ میں امریکہ کے ایک بہت بڑے بااختیار افسر نے میرے(مفتی محمد شفیع صاحب) پاس آمد ورفت شروع کردی،میں ان کی آمد کا اصل مقصود سمجھ نہیں سکا،لیکن بحیثیت مہمان میں نے ان کے احترام میں بھی کوتاہی نہ کی،متعدد بار میرے مکان پر آنے کے بعد ایک مرتبہ انہوں نے اپنے بنگلہ پر میری چائے کی دعوت کی اور واضح کردیا کہ گھر میں پکائی ہوئی کوئی چیز