روح کی بیماریاں اور ان کا علاج |
§س کتاب ک |
|
ان آیاتِ مذکورہ میں پورا دین سمو دیا گیا ہے۔ چناں چہ ملّاعلی قاری رحمۃاﷲ علیہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں: قَالَ بَعْضُ الْعَارِفِیْنَ: مَدَارُ الدِّیْنِ عَلَی التَّعْظِیْمِ لِاَمْرِ اللہِ، وَالشَّفَقَۃِ عَلٰی خَلْقِ اللہِ ؎ ترجمہ: بعض عارفین نے فرمایا کہ دین کا مدار دو باتوں پر ہے(۱)اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعظیم(۲)مخلوقِ حق پر شفقت۔عاشقانِ حق کو خداوندی تنبیہ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ؎ حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہمارے محبوب بندے اور محبّ بندے مسلمانوں پر مہربان اور کافروں پر تیز ہوں گے اور جہاد کرتے ہوں گے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور وہ لوگ کسی کی ملامت کی پروانہ کریں گے، ان نعمتوں پر فائز ہونے کے بعد ان کو اپنے اوپر ناز نہ ہونا چاہیے کہ یہ ہماری صفات قابلِ فخر ہیں ذٰلِکَ فَضْلُ اللہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہیں عطا فرماویں اور وہ بڑی وسعت والے اور بڑے علم والے ہیں۔ پس ان کو شکر گزار ہونا چاہیے حق تعالیٰ کی عنایت کا اور اپنے کو عُجب اور کبر سے حفاظت کا اہتمام ہونا چاہیے۔ یہ بندے کا کمال نہیں اُن کا انتخاب ہے جسے چاہیں اپنا بنالیں ؎ نہ ہر سینہ را راز دانی دہند نہ ہر دیدہ را دیدہ بانی دہند ہر سینے کو حق تعالیٰ اپنی محبت کا راز نہیں دیتے اور نہ ہر آنکھ کو دوسری آنکھوں کی رہنمائی والی شان دیتے ہیں۔ ------------------------------