روح کی بیماریاں اور ان کا علاج |
§س کتاب ک |
|
زندگی کا ویزا ناقابلِ توسیع ہے اور دنیا کی لذّاتِ فانیہ کی حقیقت ہم لوگ دنیا کے نیشنل نہیں ہیں اور ویزا بھی ناقابلِ توسیع ہے۔ یہاں تو کلرک کو کچھ دے کر ویزے میں توسیع بھی کرالیتے ہیں اور زندگی کا ویزا جب ختم ہوتا ہے تو اگر پوری ریاست وسلطنت حضرت عزرائیل علیہ السلام کے قدموں پر قربان کردیں کہ صرف اتنی مہلت دے دو کہ دو رکعت پڑھ کر سجدہ میں میاں سے رولیں، معاملہ صاف کرلیں، درخواستِ رحم کرلیں تو اتنا بھی موقع نہ ملے گا۔ پس اس وقت کو ہر وقت یاد رکھیے کہ جب منہ میں زبان تو ہوگی لیکن اُس وقت ہم بے زبان ہوں گے۔ بیوی اپنے رخسار کو مُردہ شوہر کے لبوں سے مَس کرتی ہے لیکن یہ لب اب ادراکِ لذّت سے قاصر ہیں۔ آنکھیں کھلی ہوئی ہیں لیکن اب سینما اور ٹیلی ویژن اور غیر محرموں کے دیکھنے سے عاجز ہیں۔ اس وقت ؎ کھلی ہوتی ہیں گو آنکھیں مگر بینا نہیں ہوتیں (اکبر) کان اب عورتوں کے نغماتِ منشورہ از ریڈیو کو سُن نہیں سکتے۔ زبان پر شامی کباب اور مُرغ کی بریانی رکھی ہے لیکن احساسِ لذّت اور حلق سے نیچے اتارنا ناممکن ہے۔ پس تمام لذّاتِ فانیہ کی جب حقیقت یہ ہی ہے کہ اچانک ہم ان سے الگ ہوجاویں گے تو زندگی کا ویزا ختم ہونے سے پہلے اسی حیاتِ عارضی کے چراغ سے حیاتِ اُخروی کا چراغ روشن کرلینا چاہیے ورنہ حیاتِ دنیا کا چراغ گُل ہونے کے بعد کس نعمت کو اپنی جان کا تکیہ اور سہارا بناؤگے اور اگر تعلق مع اللہ کی دولت اپنی جان میں سے نیم جان دے کر حاصل کرلوگے تو پھر اس جان میں صدجان محسوس کروگے ۔ نیم جان دینے کا مطلب یہ ہے کہ گناہوں سے بچنے میں جو کلفت پیش آوے اس کو برداشت کرلو ؎