روح کی بیماریاں اور ان کا علاج |
§س کتاب ک |
|
ٹخنوں سے نیچے پاجامہ یا تہبند لٹکاناو دفع شبہ متعلقہ مسئلۂ مذکورہ سوال: زید کا خیال ہے کہ ازار تحت الکعبین ممنوع اس وقت ہے جب کہ براہ تکبر وخیلاء ہو جیساکہ عرب کا دستور تھا کہ اس پر فخر کیا کرتے تھے اور جب کہ تکبراً نہ ہو اور محض زینت اور خوبصورتی کے لیے ایسا کرے تو جائز ہے اور زینت محض امرِذوقی ہے۔ ایک ہی امر ایک کو پسند ہوتا ہے دوسرا ناپسند کرتا ہے۔ اختلافِ ملک اختلافِ رواج کی وجہ سے بہت فرق ہوجاتا ہے۔ جس طرح نصف ساق تک پائجامہ اور اس سے بھی اونچا بُرا لگتا ہے۔ اسی طرح ما فوق الکعبین بہ نسبۃ ما تحت الکعبین کہ ابنائے زماں کی نظر میں بدنما لگتا ہے۔ صرف اس بدنما لگنے کی وجہ سے نیچا پہنتے ہیں۔ رہا کبرو تفاخر سو دو چار انگل کے گھٹنے بڑھنے سے ہرگز نہیں ہوسکتا بلکہ زینت و پسندیدگی اس کا باعث ہے۔ چناں چہ احادیث میں اکثر یہ قید مذکور ہے مَنْ جَرَّ اِزَارَہٗ خُیَلَاءَوغیرہ میں خیلاء کی قید ضرور ہے اور جو حدیثیں مطلق ہیں جیسے مَااَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الْاِزَارِ فَفِی النَّارِ وغیرہ وہ بھی حسب دستور عرب اسی قید پر محمول ہیں اور مطلق کا مقید پر محمول نہ ہونا اس وقت ہے جب کہ مطلق ومقید دونوں دو واقعہ پر آئے ہوں جیسے کفارۂ قتل و کفارۂ ظہار، اور اتحاد واقعہ کے وقت حسبِ اُصولِ حنفیہ مطلق مقید پر محمول ہوجاتا ہے جیسے کفارۂ قسم کا قراء ت ابنِ مسعود متتابعاتکے ساتھ مقید ہوجانا۔ نیز اس کی مؤید وہ حدیث ہے کہ حضرت نے مَا اَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ کی وعید بیان کی اور فرمایا:مَنْ جَرَّ ثَوْبَہٗ خُیَلَاءَ لَنْ یَّنْظُرَ اللہُ اِلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تو حضرت ابوبکررضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ! میری ازار لٹک پڑتی ہے اِلَّا اَنْ اَتَعَاہَدَتوحضرت نے فرمایا اِنَّکَ لَسْتَ مِمَّنْ یَفْعَلُہٗ خُیَلَا ءَ (رواہُ البخاری کذا فی المشکٰوۃ)۔ پس اگر مطلقًا جرِّ ازار ممنوع ہوتا تو آپ اجازت نہ دیتے، تو معلوم ہوا کہ یہ وعید خیلاء ہی کی صورت میں ہے اور بلا اس کے جائز ہے۔ اس شبہ کا حل مطلوب ہے۔