روح کی بیماریاں اور ان کا علاج |
س کتاب ک |
|
کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ عرض کیا: ہاں۔ فرمایا کہ اگر تمہاری ماں سے کوئی زنا کرے تو کیا معلوم ہوگا؟ عرض کیا: نہایت مکروہ وناگوار ہوگا اور سخت غیرت آئے گی۔ پھر حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہاری خالہ زندہ ہے؟ کیا تمہاری پھوپھی زندہ ہے؟ کیا تمہاری ہمشیرہ زندہ ہے اور ہر ایک کے ساتھ آپ نے اُس کی والدہ والا معاملہ پیش فرمایا اور اُس نے ہر ایک کے معاملے میں اظہارِ ناگواری اور اظہارِغیرت کیا۔ پھر حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کے ساتھ بھی تم زنا کی خواہش کرو گے وہ کسی کی ماں ہوگی یا کسی کی خالہ یا پھوپھی یا بہن ہوگی پھر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس کے سینے پر ہاتھ مار کر یہ دُعا فرمائی:اَللّٰھُمَّ اغْفِرْذَنْبَہٗ وَطَھِّرْ قَلْبَہٗ وَاَحْصِنْ فَرْجَہٗ؎ یا اﷲ! اس کے گناہ معاف فرما اور اس کے قلب کو پاک فرما اور اس کی شرم گاہ کی حفاظت فرما۔ پھر اُس شخص نے کہا کہ اس کے بعد مرتے دَم تک زنا کا وسوسہ بھی کبھی نہ آیا۔ ۱۳) حضرت عُکاف رضی اﷲ عنہ سے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کرفس ایک عبادت گزار شخص تھا۔ کسی سمندر کے کنارے تین سو سال تک اِس طرح عبادت کی کہ دن کو روزہ رکھتا رات کو نماز میں قیام کرتا۔ پھر ایک عورت کے عشق میں مبتلا ہوجانے کے سبب حق تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا اور سب عبادت کو ترک کردیا۔ پھر حق تعالیٰ نے اُن کو خلاصی عطا فرمائی اُس بلا سے اُن کے بعض عمل کی برکت سے اور توجہ فرمائی اور معاف فرما دیا۔ پھر مخاطب سے فرمایا: اے عُکاف !تم نکاح کرلو وَاِلَّا فَاَنْتَ مِنَ الْمُدْبِرِیْنَ ورنہ تو خسارے میں ہوگا۔ اسی طرح حدیث کے شروع میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا:شِرَارُکُمْ عُزَّابُکُمْ وَاَرَاذِلُ مَوْتَاکُمْ عُزَّابُکُمْ تم میں سب سے بُرے وہ لوگ ہیں جو بدون بیوی کے ہیں اور تمہارے مرنے والوں میں بُرے لوگ وہ ہیں جو بدون بیوی کے تھے ۔ ------------------------------