نمونے کے انسان |
زرگان د |
|
اور اس حالت میں لکھ رہے ہو،تو حضرت کے ساتھ میرے تعلق کو بھی ملحوظ رکھو،وہ امت کے تو حکیم تھے مگر یہ بھی بتائو کہ میرے کیا تھے؟تمہیں الفاظ کا بخل بھی یہیں کرنا تھا،ارے یوں لکھو کہ’’ میرے شیخ ومرشد،میرے آقا ومربی،سیدی وسندی ومرشدی۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ،اور ان آخری الفاظ پر آپ کی آواز بھرا گئی،آنکھوں میں آنسو چھلک آئے اور شدت جذبات میں سر تکیے پر ڈھلک گیا۔ ایک طرف اس واقعہ سے حضرت کے ساتھ آپ کے جذباتی تعلق کا اندازہ لگائیے اور دوسری طرف ایک واقعہ اورسنئے۔ غالباً حضرت والد صاحب کے ہسپتال سے واپس گھر تشریف لانے کے بعد ایک مرتبہ ایک اورتحریر مجھے لکھنے کے لئے دی تھی،اور اس حضرت حکیم الامت قدس سرہ کا تذکرہ بھی تھا،اس میں احقر نے حضرت کے لئے کچھ اس قسم کے الفاظ لکھے تھے کہ’’اس چودھویں صدی کے مجدد دین حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی‘‘۔میں نے یہ تحریر آپ کی خدمت میں بغرض ملاحظہ پیش کی،آپ نے جب وہ تحریر مجھے واپس کی تو میں نے دیکھا کہ اس میں’’چودھویں صدی کے مجدد دین‘‘کے الفاظ کاٹ کر آپ نے ان کی جگہ’’مجدد ملت‘‘کے الفاظ تحریر فرمادئیے تھے،میں اس اصلاح پر ابھی غور بھی نہ کرپایا تھا اور چہرہ سوالیہ نشان ہی بنا ہواتھا کہ آپ نے خود فرمایا: ’’سمجھے!یہ الفاظ میں نے کیوں بدلے ہیں؟۔ احقر نے عرض کیا’’نہیں ،آپ ہی بیان فردیں۔ فرمایا کہ’’در اصل مجدددین کوئی ایسا منصب نہیں ہوتا جیسے نبی اور رسول ایک معین منصب ہے،صدی کے آغاز میں جس مجدد کی خبر دی گئی ہے وہ فرد واحد بھی ہوسکتا ہے اور افراد کا ایک طائفہ بھی ہوسکتا ہے،اور مجدد کے لئے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ اسے اپنے مجدد ہونے کا علم ویقین بھی ہو اور نہ کسی دوسرے کے پاس کوئی ایسا یقینی ذریعہ ہوتا ہے جس سے وہ کسی فرد کو معین اور قطعی طور پر اس صدی کا مجدد قرار دے سکے،چنانچہ اس کی تعیین میں رائیں مختلف بھی ہوسکتی ہیں،اس ذیل میں زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ فلاں صاحب کے بارے میں گمان غالب یہ ہے کہ اس صدی کے مجدد تھے،حضرت حکیم الامت قد س سرہ کے بارے میں ہمارا گمان غالب یہی ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں اس صدی کا مجدد بنایا تھا،لیکن بالکل حتمی اور قطعی طور پر یہ بات کہنا درست نہیں،