روح کی بیماریاں اور ان کا علاج |
§س کتاب ک |
|
میں رفاقت کا ثمرہ جنّت میں رفاقت کی صورت میں عطا ہوگا کہ یہی جزاء موافق عمل ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائیجَزَآءً وِّفَاقًا ؎ اورفرمایا:بابا فرید عطاررحمۃاﷲ علیہ نے فرمایا کہ ؎ بے رفیقے ہر کہ شد در راہِ عشق عمر بگذشت و نشد آگاہِ عشق جو شخص بدون رفیق اور راہ بر اللہ تعالیٰ کی محبت کے راستے میں قدم رکھتا ہے اس کی تمام عمر بھی گزر جاوے مگر عشقِ حق کی حقیقت سے اس کی رُوح آشنانہ ہوگی۔ اس شعر کو حضرت نے پڑھ کر فرمایا کہ عام لوگ سمجھتے نہیں کہ یہ رفیق کا لفظ بابا فرید عطار رحمۃاﷲ علیہ کہاں سے لائے ہیں، دراصل یہ لفظ اسی آیتِ قرآنی سے لیا ہے وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ؎ یہ منعم علیہم بندے بڑے اچھے رفیق ہیں، اور فرمایا کہ بظاہر تو یہ جملہ خبر یہ ہے لیکن دراصل اس میں انشائیہ بھی پوشیدہ ہے وہ یہ کہ ان کو اپنا رفیق بنالو، اور فرمایا کہ حَسُنَ کا لفظ حق تعالیٰ شانہٗ نے ارشاد فرماکر یہ بتادیا کہ ان اللہ والوں سے رفاقت میں جس قدرحُسنِ رفاقت ہوگا اسی قدر نفع ان سے تام ہوگا ؎ اگر ہیں آپ صادق اپنے اقرارِ محبت میں طلب خود کرلیے جائیں گے دربارِ محبت میں (مولانا محمد احمد صاحب پرتاب گڑھی ) احقر عرض کرتا ہے کہ عام حضرات کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَپر عمل کرتے ہیں لیکن ان صادقین متقین کاملین کی صحبت سے نفع پورا نہیں پاسکے کیوں کہ ان کی طرف سے صدق میں کمی تھی۔ حضراتِ صادقین تو قیامت تک حق تعالیٰ شانہٗ پیدا فرماتے رہیں گے اور ہر دور اور ہر صدی میں جماعت کی جماعت صادقین کا وجود اس آیت کے صدق کے لیے عقلاً ضروری ہے ورنہ یہ لازم آئے گا کہ حق تعالیٰ نے ہم کو صادقین کی صحبت ------------------------------