دین و شریعت کی بنیادیں اور فقہی اصول و ضابطے ۔ قرآن کی روشنی میں |
|
کہ آپ کے وجود کو مان لے کہ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی، تریسٹھ سال عمر ہوئی، فلاں فلاں کام کئے ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی حقیقت وہ ہے جو قرآن مجید نے بالفاظ ذیل بتلائی ہے: فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتَّی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔ قسم ہے آپ کے رب کی کہ یہ لوگ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتے جب تک کہ وہ آپ کو اپنے تمام نزاعات و اختلافات میں حکم نہ بنادیں اور پھر جو فیصلہ آپ فرماویں ، اُس سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اس کو پوری طرح تسلیم نہ کرلیں ۔ روح المعانی میں اسی آیت کی تفسیر سلف سے اس طرح نقل فرمائی ہے۔ فقد روی عن الصادق رضی اللہ عنہ انہ قال لو ان قوما عبدوا اﷲ تعالیٰ واقاموا الصلوۃ وآتوا الزکوۃ وصاموا رمضان وحجوا البیت ثم قالوا لشئ صنعہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ألا صنع خلاف ما صنع أو وجدوا فی انفسہم حرجاً لکانوا مشرکین ثم تلاہذہ الآیۃ۔ (روح المعانی ۵؍۶۵) حضرت جعفر صادقؓ سے منقول ہے کہ اگر کوئی قوم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور نماز کی پابندی کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے، اور بیت اللہ کا حج کرے مگر پھر کسی ایسے فعل کو جس کا ذکر حضور سے ثابت ہو یوں کہے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا اس کے خلاف کیوں نہ کیا، اور اس کے ماننے سے اپنے دل میں تنگی محسوس کرے تو یہ قوم مشرکین میں سے ہے۔ آیت مذکورہ اور اس کی تفسیر سے واضح ہوگیا کہ رسالت پر ایمان لانے کی