روح کی بیماریاں اور ان کا علاج |
§س کتاب ک |
|
فِیْہَا اِنَّمَا ھِیَ صَلٰوۃُ الْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی جس نماز میں بالکل وسوسہ نہ ہو تو یہ نماز یہود ونصاری کی نماز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وسوسہ آنے سے پریشان نہ ہو۔ وسوسہ کو حدیث میں علامتِ ایمان قرار دیا گیا ہے: اِنَّ الْوَسْوَسَۃَ اَمَارَۃُ الْاِیْمَانِ ؎ اسی لیے وساوس کی طرف توجہ نہ کرنا چاہیے۔ اس ضعیف کی خوشامد نہ کریں اپنے مالک سے پناہ مانگیں۔ حضرت عارف رومی رحمۃاﷲ علیہ اسی حقیقت کو بیان فرماتے ہیں ؎ گر عنایاتت شود باما مقیم کے بُوَد بیم ازاں دزدِلئیم اے خدا! اگر آپ کی عنایات ہمارے سر پر سایہ فگن رہیں تو ہم کو اس کمینے چور شیطان سے کوئی ڈر نہیں۔ حاصل اور خلاصہ یہ کہ استغفار اور توبہ کے بعد حق تعالیٰ کی بارگاہ میں دو رکعت صلوٰۃِ حاجت پڑھ کر ہر روز اپنی حفاظت اور اصلاح اور استقامت کے لیے خوب دعا مانگنا چاہیے کہ بدون فضلِ خداوندی ہمارے ارادوں کا کچھ اعتبار نہیں۔ حضرت حکیم الامّت مولانا اشرف علی صاحب رحمۃاﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ گناہ ترک کرنے کے لیے خود ہمّت کرے اور حق تعالیٰ سے ہمّت کو طلب کرتا رہے اور خاصانِ حق سے ہمت کی دعا کراتا رہے۔ ان شاء اللہ! گناہوں سے بچنے کی ضرور ہمت عطا ہوگی۔ (کمالاتِ اشرفیہ، ص:۵۲) ------------------------------