روح کی بیماریاں اور ان کا علاج |
§س کتاب ک |
|
میں اسی منہ سے کعبہ جاؤں گا شرم کو خاک میں ملاؤں گا اُن کو رو رو کے میں مناؤں گا اپنی بگڑی کو یوں بناؤں گا مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎ عرش لرزد از اَنینِ المذنبین نالۂگناہ گاراں سے عرش رحمت سے کانپنے لگتا ہے یعنی دریائے رحمت کی موجوں میں جوش آتا ہے۔ حضرت حکیم الامّت تھانوی رحمۃاﷲ علیہ نے فرمایا کہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمۃاﷲ علیہ حرم شریف میں آخر شب استغفار میں اس طرح روتے تھے کہ کلیجہ سننے والوں کا پھٹا جاتا تھا اور ایک رات صرف اس شعر کو سجدے میں پڑھتے رہے اور روتے رہے ؎ اے خدا ایں بندہ را رُسوا مکن گر بدم من سرِّ من پیدا مکن (رومی) اے خدا! اس بندے کو میدانِ محشر میں رُسوا مت فرمانا اگرچہ ہم بُرے اور گناہ گار ہیں آپ ہمارے عیوب کو مخلوق پر ظاہر نہ فرمایئے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اﷲعنہ سے روایت ہے کہ فرمایا حضور صلی اﷲعلیہ وسلم نے مَامِنْ عَبْدٍ مُّؤْمِنٍ یَّخْرُجُ مِنْ عَیْنَیْہِ دُمُوْعٌ وَّاِنْ کَانَ مِثْلَ رَأْسِ الذُّبَابِ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ ثُمَّ یُصِیْبُ شَیْئًا مِّنْ حُرِّ وَجْہِہٖ اِلَّاحَرَّمَہُ اللہُ عَلَی النَّارِ ِ؎ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس آنکھ سے اللہ کے خوف سے آنسو نکل کر اس کے چہرے پر گرتا ہے اگرچہ وہ مکھی کے سر کے برابر ہی کیوں نہ ------------------------------