روح کی بیماریاں اور ان کا علاج |
§س کتاب ک |
|
مَا اَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ وَاِنْ عَادَ فِی الْیَوْمِ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً ؎ وہ شخص اصرار کرنے والوں میں نہیں جو استغفار کرلے اگرچہ وہی گناہ اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ ہو۔(بشرطیکہ ندامتِ کاملہ اور عزم علی التقویٰ ہو) ملّاعلی قاری رحمۃ اﷲ علیہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: اَلْمُصِرُّہُوَالَّذِیْ لَمْ یَسْتَغْفِرْ وَلَمْ یَنْدَمْ عَلَی الذَّنْبِ؎ اصرار کرنے والا گناہ گار وہ ہے جو استغفار نہ کرے اور گناہ پر نادم بھی نہ ہو۔ اور اصرار کا مفہوم اکثار ہے اَ لْاِصْرَارُ عَلَی الذَّنْبِ اَیْ اِکْثَارُہٗ خطاکار بندے توبہ کی برکت سے خیر الخطائین کے لقب سے نوازے گئے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کُلُّ بَنِیْ اٰدَمَ خَطَّاءٌ وَّخَیْرُ الْخَطَّائِیْنَ التَّوَّابُوْنَ ؎ ہر بنی آدم بہت خطا کار ہے اور بہترین خطاکار بہت توبہ کرنے والے ہیں۔ اس حدیث کے حسبِ ذیل فوائد ہیں جو مرقاۃ،جلد: ۵، سے لیے جارہے ہیں: ہر بندہ کثیر الخطاہے۔ انبیاء علیہم السلام اس سے مستثنیٰ ہیں۔خطّاء بمعنیٰ کثیر الخطأ اور توابون بمعنی رجّاعون ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت رجوع ہونے والے۔اور اس رجوع کے تین انواع ہیں: بِالتَّوْبَۃِ مِنَ الْمَعْصِیَۃِ اِلَی الطَّاعَۃِ یہ عوام کی توبہ ہے۔ گناہ ترک کرکے طاعت کی طرف رجوع کرلیں۔ بِالْاِنَابَۃِ مِنَ الْغَفْلَۃِ اِلَی الذِّکْرِ غفلت ترک کرکے ذکرِ حق میں مشغول ہونا۔ یہ متوسط سالک کا حال ہے۔ ------------------------------