روح کی بیماریاں اور ان کا علاج |
س کتاب ک |
|
ملّاعلی قاری رحمۃاﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ان آیاتِ قرآنیہ سے مقتبس ہے: وَمَنۡ یَّتَّقِ اللہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا ۙ﴿۲﴾ وَّ یَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ؎ جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تقویٰ کی برکت سے ہم اس کو ہر غم سے خلاصی کا راستہ نکال دیں گے اور ایسی جگہ سے رزق عطا کریں گے جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہوگا۔ اس حدیث کے اندر بھی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا وہی ارشاد ہے کہ جو شخص استغفار کو لازم پکڑلے گا اللہ تعالیٰ ہرتنگی سے نجات کا راستہ پیدا فرمائیں گے اور ہر ہم وغم سے نجات دے دیں گے اور رزق ایسی جگہ سے دیں گے کہ گمان بھی اس راہ سے رزق ملنے کا نہ ہوگا۔ ملّاعلی قاری رحمۃاﷲ علیہ شارحِ مشکوٰۃ فرماتے ہیں کہ ان آیات اور اس حدیث کے مضامین میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ استغفار کرنے والوں کو وہی انعامات دیے جاتے ہیں جو تقویٰ والے حضرات کو دیے جانے کا وعدہ قرآن میں فرمایا گیا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ مستغفرین کو درجہ میں متقین کے حق تعالیٰ کی شانِ رحمت نے فائز کردیا ہے: فَاِنَّ فِیْہَا کُنُوْزًا مِّنَ الْاَنْوَارِ وَرُمُوْزًا مِّنَ الْاَسْرَارِ، وَالْحَدِیْثُ اِمَّا تَسْلِیَۃٌ لِّلْمُذْنِبِیْنَ فَنُزِّلُوْا مَنْزِلَۃَ الْمُتَّقِیْنَ اَوْاَرَادَ بِالْمُسْتَغْفِرِیْنَ التَّائِبِیْنَ فَہُمْ مِّنَ الْمُتَّقِیْنَ اَوْ لِاَنَّ الْمُلَازِمِیْنَ لِلْاِسْتِغْفَارِ لَمَّا حَصَلَ لَھُمْ مَغْفِرَۃُ الْغَفَّارِ فَکَأَنَّہُمْ مِّنَ الْمُتَّقِیْنَ ؎ علّامہ طیبی رحمۃاﷲ علیہ نے فرمایا کہ دوامِ استغفار اور حقِ استغفار کی ادائیگی سے بندہ متقی ہوجاتا ہے۔ ------------------------------