روح کی بیماریاں اور ان کا علاج |
§س کتاب ک |
|
خائف ہوئے اور جمع ہوکر بلعم بن باعورا کے پاس آئے اور دُعا کی درخواست کی کہ ہمارے مقابلے سے حق تعالیٰ اُن کو واپس فرمادیں۔ بلعم بن با عورا کو اسمِ اعظم معلوم تھا۔ اُس کے ذریعے جو دُعا کرتا تھا قبول ہوتی تھی۔ بلعم نے کہا کہ افسوس کہ وہ اﷲ کے نبی ہیں اُن کے ساتھ اﷲ کے فرشتے ہیں میں اُن کے خلاف کیسےبد دُعا کرسکتا ہوں، اِس سے تو میرا دین اور میری دُنیا دونوں تباہ ہوجائیں گے۔ اُن لوگوں نے جب بے حد اصرار کیا تو بلعم نے کہا اچھا میں حق تعالیٰ سے اِس نوع کی دُعا کی اجازت لیتا ہوں۔ اُس نے کوئی عمل یا استخارہ کیا جواب میں اُس کو بتلایا گیا کہ ہرگز ایسا نہ کرے۔ اُس نے قوم کو بتلایا کہ مجھے بد دُعا کرنے سے روک دیا گیا۔ اُس وقت قومِ جبارین نے بلعم کو بڑا ہدیہ پیش کیا جو درحقیقت رشوت تھی اُس نے ہدیہ قبول کرلیا۔ پھر اُس قوم کے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور اُس کی بیوی نے بھی مشورہ دیا کہ رشوت قبول کرلو پس وہ بیوی اور مال کی محبت میں اندھا ہوگیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے خلاف بد دُعا کرنا شروع کی۔ اُس وقت قدرتِ الٰہیہ کا عجیب کرشمہ یہ ظاہر ہوا کہ جو کچھ وہ کلماتِ بددُعا نکالتا وہ کلمات جبارین کے لیے نکلتے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے نکلتے ہی نہ تھے۔پس قوم جبارین کے لوگ گھبراگئے اور چلّا اُٹھے کہ تو ہمارے خلاف بد دُعا کررہا ہے۔ بلعم نے کہا میں کیا کروں میری زبان میرے اختیار سے باہر ہوگئی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اُس قوم پر تباہی آئی اور بلعم کو یہ سزا ملی کہ اُس کی زبان لٹک کر سینے پر آگئی۔ اِس عذاب کا قرآنِ حکیم میں ذکر ہے: فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الۡکَلۡبِ ۚاِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَیۡہِ یَلۡہَثۡ اَوۡ تَتۡرُکۡہُ یَلۡہَثۡ؎ پس بلعم کا حال ایساہے جیسے کتا کہ اُس پر بوجھ لادو تو ہانپنے لگے اور اگر چھوڑو تو بھی ہانپے۔پھر بلعم نے کہا کہ اے میری قوم! اب تو میری دُنیا اور آخرت تباہ ہوگئی مگر ہم تمہیں ایک چال بتاتے ہیں جس کے ذریعے تم موسیٰ علیہ السلام اور اُن کے لشکر پر غالب ------------------------------