دین و شریعت کی بنیادیں اور فقہی اصول و ضابطے ۔ قرآن کی روشنی میں |
|
ہے کیونکہ محاکمہ کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ جانبین کے علمی مقام سے اگر بلند تر نہ ہو تو کم از کم ان کے مساوی تو ہو، اور آج اس مساوات کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا، البتہ ساتھ ہی حضرت شیخ الہندؒ کا یہ مقولہ سنایا کرتے تھے کہ تقلید شخصی کوئی شرعی حکم نہیں ہے بلکہ ایک انتظامی فتوی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ چاروں ائمہ مجتہدین بر حق ہیں اور ہرایک کے پاس اپنے موقف کے لیے وزنی دلائل موجود ہیں ، لیکن اگر ہر شخص کو یہ کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ جب جس امام کے مسلک کو چاہے اختیار کرلے تو ہر شخص اپنی آسانی کی خاطر آج ایک مسلک پر عمل کرلے گا، کل دوسرے مسلک پر اور اس طرح اتباع خداوندی کے بجائے اتباع نفس کا دروازہ کھل جائے گا۔ (البلاغ ص:۴۱۹)