دین و شریعت کی بنیادیں اور فقہی اصول و ضابطے ۔ قرآن کی روشنی میں |
|
طور پر ایک جماعت بن جاتی ہے، اسی طرح دوسرے مجتہد کا اتباع کرنے والے ایک دوسری جماعت کی صورت اختیار کرلیتے ہیں ، اگر جماعت بندی مثبت انداز میں صرف اجتہادی مسائل کی حد تک اپنی تعلیمی اور عملی آسانیوں کے لیے ہو تو نہ اس میں کوئی مضائقہ ہے نہ کوئی تفرقہ اور نہ ملت کے لیے اس میں مضرت۔ مضرت رساں اور تباہ کن ایک تو اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ اپنی رائے اور اختیار سے اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ جنگ و جدل اور دوسرے ان فروعی مسائل کی بحثوں میں غلو کہ سارا علم و تحقیق کا زور اور بحث و تمحیص کی طاقت اور عمر کے اوقات عزیز انہی بحثوں کی نذر ہوجائیں ، اگر چہ ایمان و اسلام کے بنیادی اور قطعی اجماعی مسائل مجروح ہورہے ہوں ، کفر والحاد دنیا میں پھیل رہا ہو، سب سے صرف نظر کرکے ہمارا علمی مشغلہ یہی فروعی بحثیں بنی رہیں ، جن کے متعلق مذکورۃ الصدر تفصیل میں ابھی آپ معلوم کرچکے ہیں کہ ان میں ہزار تحقیقات کے بعد بھی بات اس سے آگے نہیں بڑھتی کہ یہ راجح ہے اور اس کے خلاف مرجوح اور اس راجح مرجوح کا بھی یقینی فیصلہ نہ دنیا میں ہوسکتا ہے نہ برزخ میں ان کا سوال ہوگا، نہ محشر میں اس راجح مرجوح کا اعلان ہوگا۔ اسی طرح نہ ان مسائل میں اختلاف رکھنے والوں پر نکیر کرنا درست ہے نہ ان کو خطا کار مجرم ٹھہرانا صحیح ہے، اس وقت ہماری قوم کا برگزیدہ ترین طبقہ علماء فقہاء کا خصوصاً جو تعلیم و تصنیف میں مشغول ہیں ، ان کی شبانہ روز مشغولیت کا جائزہ لیا جائے تو بیشتر حضرات کی علمی تحقیقات اور سعی و عمل کی ساری توانائی انہی فروعی بحثوں میں محدود نظر آئے گی۔ ان میں بعض حضرات کا غلو تو یہاں تک بڑھا ہوا ہے کہ اپنے سے مختلف رائے رکھنے والوں کی نماز کو فاسد اور ان کو تارکِ قرآن سمجھ کراپنے مخصوص مسلک کی اس طرح دعوت دیتے ہیں جیسے کسی منکر اسلام کو اسلام کی دعوت دی جارہی ہو اور اسی کو دین کی