اسلام میں عفت و عصمت کا مقام |
|
ترجمہ: جو مجھے اپنی زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔ مذکورہ احادیث سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عفت وعصمت کا تحفظ دین میں کس قدر اہم، مطلوب اور بنیادی کام ہے۔عفت کے بارے میں سلف کے فرمودات (۱) حضرت ابوادریس خولانیؒ فرماتے ہیں : ’’حضرت آدم ں کو زمین پر اتارتے وقت سب سے پہلا تاکیدی حکم اللہ نے شرم گاہ کی حفاظت کا فرمایا تھا، اور حکم دیا تھا: ’’لَا تَضَعْہُ اِلاَّ فِیْ حَلاَلٍ‘‘ شرم گاہ کو حلال مواقع کے علاوہ کہیں استعمال مت کرنا‘‘۔ (نضرۃ النعیم ۵؍۱۶۶۳) (۲) حضرت لقمان حکیم کا ارشاد ہے: حَقِیْقَۃُ الْوَرَعِ اَلْعَفَافُ۔ (الورع: ابن ابی الدنیا ۵۹) ترجمہ: ورع وپرہیزگاری کی حقیقت پاک دامنی ہے۔ (۳) حضرت محمد بن الحنفیہؒ نے فرمایا: اَلْکَمَالُ فِیْ ثَلاَ ثَۃٍ: اَلْعِفَّۃُ فِی الدِّیْنِ، وَالصَّبْرُ عَلیَ النَّوَائِبِ، وَحُسْنُ التَّدْبِیْرِ فِی الْمَعِیْشَۃِ۔ (نضرۃ النعیم ۷؍۲۸۸۷) ترجمہ: کمال تین خصلتوں میں ہے، دین میں عفت وپاکیزگی، مصائب پر صبر، زندگی میں حسن تدبیر۔ (۴) حضرت محمد بن ابی عمرہؒ نے اپنے خاندان کے نام وصیت میں ارقام فرمایا: اَلْعِفَّۃُ وَالصِّدْقُ خَیْرٌ وَاَتْقیٰ مِنَ الزِّنَائِ وَالْکِذْبِ…۔ (ایضاً) ترجمہ: پاک دامنی اور راست بازی زنا اور دروغ سے بدرجہا بہتراور افضل ہے۔