اسلام میں عفت و عصمت کا مقام |
|
مَرَّ رَجُلٌ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ا فَقَالَ: مَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ ہٰذَا؟ قَالُوْا: حَرِیٌّ اِنْ خَطَبَ اَنْ یُنْکَحَ، وَاِنْ شَفَعَ اَنْ یُشَفَّعَ، وَإِنْ قَالَ أَنْ یُسْتَمَعَ، قَالَ: ثُمَّ سَکَتَ، فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ فُقَرَائِ الْمُسْلِمِیْنَ، فَقَالَ: مَا تَقُوْلُوْنَ فِیْ ہٰذَا؟ قَالُوْا: حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لاَّ یُنْکَحَ، وَاِنْ شَفَعَ اَنْ لاَّ یُشَفَّعَ، وَاِنْ قَالَ اَنْ لاَّ یُسْتَمَعَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِا: ہٰذَا خَیْرٌ مِنْ مِلأِ الأَرْضِ مِثْلَ ہٰذَا۔ (بخاری: کتاب النکاح: باب الأکفاء فی الدین) ترجمہ: حضور اکرم اکے پاس سے ایک آدمی کا گذر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضراتِ صحابہ ث سے دریافت فرمایا کہ اس شخص کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ صحابہ نے کہا کہ یہ آدمی اس بات کا مستحق ہے کہ اگر کہیں پیغام نکاح بھیجے تو اس کا نکاح کردیا جائے، اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے، اور اگر بات کرے تو اس کی بات سنی جائے۔ حضرت سہل ص فرماتے ہیں کہ اس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم خاموش ہوگئے، اتنے میں ایک مسلمان فقیر آدمی وہاں سے گذرا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس آدمی کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ صحابہ ث نے کہا کہ یہ اس کا مستحق ہے کہ اگر پیغام نکاح بھیجے تو اس کا نکاح نہ کرایا جائے، سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے، اور اگر بات کرے تو اس کی بات نہ سنی جائے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: یہ فقیر اس جیسے روئے زمین کے تمام سرمایہ داروں سے بہتر ہے۔ اس حدیث میں پوری وضاحت کے ساتھ رسول اکرم اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نادار وفقیر افراد کے تعلق سے اسلام کا تصور واضح کردیا ہے اور یہ ثابت کردیا ہے کہ فقر قابل عیب وذلت چیز نہیں ہے، اور اس بنیاد پر نہ کسی کی تنقیص روا ہے اور نہ کسی رشتے کا ٹھکرانا درست ہے۔نادار کا تعاون اسلام نکاح کے آرزو مند وضرورت مند نادار افراد کی معنوی مدد کے ساتھ ہی مالی مدد