اسلام میں عفت و عصمت کا مقام |
|
نے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگارکھی تھی، آپ کو بتایا گیا کہ یہ عورتوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے یہ سزا سنائی کہ اسے مدینہ سے جلاوطن کردیا جائے۔ ان احادیث کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام مرد کے لئے زنانہ وضع اور طور طریق اور عورت کے لئے مردانہ وضع اور طور طریق کو سخت ناپسند کرتا ہے، اور اسے بے راہ روی کے فروغ کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ آج کل یورپ کی تقلید میں مسلم نوجوان مرد وعورت بھی اسی لت میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں ، اور اللہ ورسول کی لعنت کے مستحق ہوتے جارہے ہیں ، مغربی تہذیب کے نامبارک عطیات اور نحوستوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ مردوں کو رجولت کے وقار سے اور عورتوں کو نسوانیت کے وقار سے محروم کرنا چاہتی ہے، اور اس کے لئے اس نے: خرد کا نام جنوں رکھ دیا، جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرےاجنبی عورتوں کے اوصاف کا مردوں سے ذکر مردوں کے سامنے اجنبی عورتوں کے اوصاف کا تذکرہ دل ودماغ کو غلیظ خیالات کا عادی بنادیتا ہے، اور عموماً مرد کے دل میں اس عورت کی محبت پیدا کردیتا ہے، اسی لئے شریعت نے اس پر بندش لگائی ہے اور مردوں کے سامنے اجنبی عورتوں کی وصف بیانی سے عورتوں کو سختی سے روک دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے: لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأۃُ الْمَرْأَۃَ تَصِفُہَا لِزَوْجِہَا کَأَنَّہٗ یَنْظُرُ اِلَیْہَا۔ (ترمذی شریف: باب ماجاء فی مباشرۃ المرأۃ المرأۃ) ترجمہ: کوئی عورت دوسری عورت سے اس لئے نہ ملے اور اس کو اس لئے نہ چھوئے کہ بعد میں اس کے اوصاف اپنے خاوند سے اس طرح بیان کرے