اسلام میں عفت و عصمت کا مقام |
|
عذابِ الٰہی جس قوم یا سماج میں بدکاری کی وبا پھیل جاتی ہے وہ سماج عذابِ الٰہی کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس صکی روایت ہے کہ رسول اکرم اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اِذَا ظَہَرَ الرِّبَا وَالزِّنَا فِیْ قَرْیَۃٍ فَقَدْ اَحَلُّوْا اَنْفُسَہُمْ عَذَابَ اللّٰہِ۔ (المستدرک: ۲؍۳۷) ترجمہ: جب کسی علاقے میں سود خوری اور زناکاری عام ہوجاتی ہے تو اللہ کا عذاب آنے کے قریب ہوجاتا ہے۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے نقل کرتی ہیں : لَا تَزَالُ اُمَّتِیْ بِخَیْرٍ مَا لَمْ یَفْشُوْا فِیْہِمْ وَلَدُ الزِّنَا، فَاِذَا فَشَا فِیْہِمْ وَلَدُ الزِّنَا فَاَوْشَکَ اَنْ یَعُمَّہُمُ اللّٰہِ بِعَذَابٍ۔ (مجمع الزوائد ۶؍۲۵۷) ترجمہ: میری امت اس وقت تک خیر پر قائم رہے گی جب تک کہ اس میں ولد الزنا کی کثرت نہ ہو، اور جب امت میں ولد الزنا کی کثرت ہوجائے گی تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔ حضرت صدیق اکبر صکے خطبات میں ملتا ہے: ’’جس قوم میں بدکاری پھیل جاتی ہے خدا اس میں مصیبت کو پھیلادیتا ہے‘‘۔ معلوم ہوا کہ جس معاشرہ میں زنا عام ہوجائے، ناجائز اولاد کی کثرت ہونے لگے وہ معاشرہ عذابِ الٰہی کے نشانے پر آجاتاہے، پھر عذاب کا ظہور مختلف شکلوں میں ہوتا ہے، طوفان وسیلاب ہو، زلزلہ ہو، رزق سے محرومی ہو، یہ سب اسی عذاب کے مظاہر ہیں ۔جرائم کا طوفانِ بلاخیز زنا اور بدکاری کے نتیجے میں سماج میں جرائم کا ایسا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس پر بند لگانا