اسلام میں عفت و عصمت کا مقام |
|
لئے اتنی سختی اور شدت کا معاملہ من جانب اللہ ہوتا ہے کہ اس کا محض تصور ہی انسان کو لرزادیتا ہے۔ قرآن میں اس منظر کی تصویر کشی کچھ یوں فرمائی گئی ہے: وَلَوْ تَریٰ اِذِ الظَّالِمُوْنَ فِیْ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَا ئِکَۃُ بَاسِطُوْا اَیْدِیْہِمْ، اَخْرِجُوْا اَنْفُسَکُمْ، اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلیَ اللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ، وَکُنْتُمْ عَنْ اٰیَاتِہٖ تَسْتَکْبِرُوْنَ۔ (الانعام: ۹۳) ترجمہ: کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکراتِ موت میں ڈبکیاں کھارہے ہوتے ہیں ، اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھاکر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ لاؤ نکالو اپنی جان، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا، اس وجہ سے کہ تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکتے رہتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے۔قبر کی وحشت ناکی مرنے کے بعد پہلا مرحلہ قبر میں رکھا جانا ہوتا ہے، نیک انسان کے لئے قبر جنت کا ایک ٹکڑا ثابت ہوتی ہے، جب کہ بدکار وگنہ گار کے لئے جہنم کا مہیب گڈھا ثابت ہوتی ہے۔ حضرت ابوسعید خدری صآپ صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں : اِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَۃُ فَاحْتَمَلَہَا الرِّجَالُ عَلیٰ اَعْنَاقِہِمْ، فَاِنْ کَانَتْ صَالِحَۃً قَالَتْ: قَدِّمُوْنِیْ، وَاِنْ کَانَتْ غَیْرَ صَالِحَۃٍ قَالَتْ لأَہْلِہَا: یَا وَیْلَہَا: أَیْنَ یَذْہَبُوْنَ بِہَا؟ یَسْمَعُ صَوْتَہَا کُلُّ شَیْئٍ اِلاَّ الْاِنْسَانُ، وَلَوْ سَمِعَہَا لَصَعِقَ۔ (بخاری: کتاب الجنائز، باب قول المیت قدمونی) ترجمہ: جب جنازہ رکھا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں تو اگر وہ نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ مجھے آگے لے چلو، اور اگر وہ بد ہوتا ہے تو کہتا ہے ’’ہائے میری بدبختی‘‘، تم مجھے کہاں لے جارہے ہو؟ یہ آواز انسان کے سوا