اسلام میں عفت و عصمت کا مقام |
|
کر حیا اور ایمان کے ماحول میں آنے والے ہوں ، سب کا یہی تأثر ہوتا ہے کہ اس انقلابِ حال نے ان کی زندگی الجھنوں ، پیچیدگیوں ، بے سکونی، بے اطمینانی، ذلت وشقاوت اور مشقتوں سے پاک کردی ہے، اور ایمان وطاعت میں جو حلاوت وراحت اور سکون وسعادت انہیں میسر آئی ہے، کائنات کی کوئی دولت اس کی ہم سری نہیں کرسکتی۔حفاظت الٰہی عفت مآبی کا لازمی اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان اللہ کے اُس حصارِ حفاظت میں آجاتا ہے جس کی نہ کوئی نظیر ہے، نہ کوئی بدل ہے اور نہ کوئی توڑ ہے۔ حضرت ابن عباس صکو خطاب کرتے ہوئے حضور اکرم انے فرمایا: اِحْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ، اِحْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ تِجَاہَکَ۔ (ترمذی: ۲۵۱۶) ترجمہ: تم اللہ کی حفاظت کرو (یعنی اس کی طاعات کی بجاآوری کرو اور تمام ممنوعات ومحرمات سے رک جاؤ) اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، تم اللہ (کے دین) کی حفاظت کرو، تم اللہ کو اپنے آگے پاؤگے (ہرمرحلۂ حیات میں وہ تمہارا حامی وناصر ہوگا) انسان جس قدر معاصی سے باز رہتا ہے، اپنی آنکھ، کان، ناک، زبان، ہاتھ، پاؤں ، دل، دماغ، شرم گاہ اور سراپاکی جس قدر حرام سے حفاظت کرتا ہے، اسی قدر اللہ کی رحمتیں اس کی طرف متوجہ ہوتی ہیں ، اور اللہ ہر شر اور آفت سے اسے محفوظ رکھتا ہے۔اجر وثواب کی کثرت شہوت رانی اور حرام کاری کے تقاضے جتنے سرکش وزور آور ہوں ، زنا اور معصیت کے لئے ماحول جس قدر سازگار اور ہموار ہو، اس وبا اور لعنت سے اپنے کو بچالینے میں من جانب اللہ اُسی قدر اجر اور ثواب بھی ملتا ہے۔ ایک حدیث میں زمانۂ فتن کی عبادت کو اس کے مشکل،