اسلام میں عفت و عصمت کا مقام |
|
پھر اسی وقت اس نے مرثد کا ہاتھ اپنے گھر لے جانے کے لئے پکڑلیا، مرثد وہ مرثد نہیں تھا، وہ اب بادۂ توحید سے مست تھا، اس کا سینہ ایمان کے نور سے منور تھا، جاہلیت کی ساری باتوں سے اسے اب نفرت ہوچکی تھی؛ لہٰذا اس نے اچھل کر اس کا ہاتھ یوں جھٹکا جیسے کوئی ناگ لپٹ گیا ہو۔ مرثد نے جونہی ہاتھ جھٹکا، عناق حیران رہ گئی؛ کیوں کہ اس سے قبل کئی کئی راتیں ان کی ہم آغوشی میں گذر جاتی تھیں ۔ ’’خیر تو ہے، تم پاگل تو نہیں ہوگئے‘‘؟ عناق نے حیرت زدہ لہجے میں کہا، ’’تم جانتے ہو کہ یہ بازو اور ہاتھ تمہیں کتنے پسند تھے‘‘؟ ’’وہ اور وقت تھا، عہد رفتہ کی باتیں چھوڑو، ماضی کی باتیں قصۂ پارینہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں ، وہ زمانۂ جاہلیت کی باتیں ہیں ، جب مجھے حلال وحرام، نیکی اور بدی، حق اور باطل اور نجاست وپاکیزگی میں تمیز نہ تھی۔ مرثد صنے عناق کی بات کاٹتے ہوئے کہا: ’’اب اللہ نے مجھ پر اپنا خاص فضل کیا ہے، مجھے نیکی کی ہدایت دی ہے، صراطِ مستقیم دکھائی ہے، اورایمان کے نور سے میرے دل کو منور کیا ہے، اب میں اللہ کے فضل وکرم سے مسلمان ہوں ، اسلام میں زنا حرام ہے اس لئے مجھے معاف رکھو‘‘۔ عناق مرثد صکے اس جواب سے سیخ پا ہوگئی، غصے سے اس کا رنگ سرخ ہوگیا، اور وہ تلملاتے ہوئے بولی: ’’بڑے آئے پاک دامن اور زنا کو حرام کہنے والے، تم میرے ساتھ چلتے ہو یا لوگوں کو آواز دوں ‘‘؟ مرثد ص نے کہا: ’’نیک بخت! اپنا راستہ ناپو، میں اب پاکیزہ زندگی کو چھوڑکر نجاست کے گڑھے میں کبھی نہیں گروں گا، جاہلیت کی تمام باتیں میں نے اب ہمیشہ کے لئے تج دی ہیں ‘‘۔ عناق ناگن کی طرح پھنکاری اور زور زور سے چیخنے لگی: ’’لوگو! مرثد آیا ہے تمہارے قیدیوں کو بھگانے کے لئے‘‘۔