اسلام میں عفت و عصمت کا مقام |
|
روایات میں آتا ہے کہ ایک غزوے سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ ثکے ہمراہ واپس آرہے تھے، حضرت جابر صبھی ساتھ تھے، ان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، انہیں واپسی کی جلدی تھی، مدینہ سے باہر جب قافلہ پہنچا تو حضرت جابر ص نے جلدی سے شہر کے اندر جانا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ رک جاؤ، دیر میں جانا؛ تاکہ عورتیں تیار ہوسکیں اور بناؤ سنگار کرسکیں ، اور تمہاری طبیعت ان سے مل کر خوش ہوجائے، اچانک جانے سے ممکن ہے کہ ان کو بغیر زینت وتیاری دیکھ کر تم منقبض ہوجاؤ، اور ازدواجی تعلقات میں دراڑ پڑجائے۔ (صحیح بخاری: کتاب النکاح: باب تستحد المغیبۃ وتمتشط) ایک حدیث میں لمبے سفر پر جانے والے شخص کو رات میں بلااطلاع گھر لوٹنے سے اسی لئے روکا گیا ہے کہ کہیں بیوی شوہر کے حسب منشا حال میں نہ ہو اور یہ چیز تعلقات کی ناخوش گواری کا باعث ہوجائے۔ عورتوں کی شوہروں کے لئے زیب وزینت مطلوب شرعی ہے، اور بے زینت انداز زندگی اور اجاڑ ویران کیفیت خواہ اس میں شوہر کی بے التفاتی باعث ہو یا عورت کی غفلت، شرعاً قابل مذمت ہے۔ حضرت عثمان بن مظعون صصاحب ثروت صحابی تھے، انہوں نے روزانہ دن میں روزہ اور رات بھر عبادت کا معمول بنارکھا تھا، اس طرح اہلیہ کا حق مجروح ہورہا تھا، پہلے اہلیہ زینت وآرائش کرتی تھیں ، شوہر کی یہ بے التفاتی دیکھ کر اس سے گریز کرنے لگیں ، اسی دوران بعض ازواجِ مطہرات سے ملنے گئیں ، ان کی اجڑی حالت اور بے رونقی وسادگی دیکھ کر یہ سوال کیا گیا کہ کیا شوہر سفر پر ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ان کا قیام بھی سفر کی طرح ہے، یعنی رہنے نہ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، انہیں نہ دنیا کی آرزو ہے اور نہ بیوی کی چاہت، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو حقوق میں توازن رکھنے کی تاکید کی، چناں چہ حضرت عثمان صنے بیوی کی طرف توجہ دی اور پھر ان کی اہلیہ زینت وآرائش کرنے لگیں ۔ (نیل الاوطار ۶؍۲۱۸)