حیاۃ الصحابہ اردو جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
جائے گا اُلٹے پائوں تو ہرگز نہ بگاڑے گا اللہ کا کچھ، اور اللہ ثواب دے گا شکر گزاروں کو۔
تمہارے آس پاس کے عربوں نے زکوٰۃ کی بکریا ںاور اُونٹ دینے سے اِنکار کر دیا ہے اگرچہ یہ آج اپنے دین کی طرف واپس چلے گئے ہیں، لیکن پہلے بھی ان کا اپنے دین کی طرف میلان اتنا ہی تھا جتنا کہ آج ہے۔ اور آج اگرچہ تم اپنے نبی کی برکتوں سے محروم ہوچکے ہو، لیکن تم اپنے دین پر اتنا ہی پختہ ہو جتنا کہ تم (اُن کی موجودگی میں ) پختہ تھے (پہلے کو ئی آج سے زیادہ پختہ نہیں تھے۔ اور اگر چہ تمہارے نبی چلے گئے لیکن )وہ تمہیں اس اللہ کے حوالے کر کے گئے ہیں جو ہر طرح کفایت فرمانے والے ہیں۔ اور وہ سب سے پہلے تھے جنھوں نے حضور ﷺ کو (شریعت سے )بے خبر پایا سو حضور ﷺ کو (شریعت کا) راستہ دکھایا، اور جنھوں نے حضور ﷺ کو نادار پایا سو مال دار بنا دیا۔ اور تم لوگ آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے اس نے تمہیں اس (میں گرنے )سے بچالیا۔
اللہ کی قسم! میں اللہ کے لیے لڑوں گا اور اس لڑنے کو ہر گز نہیں چھوڑوں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کو پورا کر دے اور ہم سے اپنے عہد کو وفا کردے۔ ہم میں سے جو مارا جائے گا وہ شہید اور جنتی ہوگا، اور ہم میں سے جو باقی رہے گا وہ اللہ کا خلیفہ بن کر اس کی زمین میں اس کا وارث ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے حق کو مضبوط فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے خلاف نہیں ہو سکتا اور ان کا فر مان یہ ہے:
{وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ}1
یہ فرما کر منبر سے نیچے اُتر آئے۔2
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب عرب کے لوگ مرتد ہوگئے اور تمام مہاجرین کی ایک ہی رائے تھی اور میںبھی اس رائے میں اُن کے ساتھ تھا (کہ مانعینِ زکوٰۃسے جنگ نہ کی جائے) تو ہم نے عرض کیا : یا خلیفۃ رسول اللہ! آپ لوگوں کو چھوڑ دیں کہ وہ نماز پڑھتے رہیں اور زکوٰۃنہ دیں (آپ ان سے جنگ نہ کریں)، کیوںکہ جب ایمان ان کے دلوں میں داخل ہو جائے گا تو وہ زکوٰۃ کا بھی اِقرار کر لیں گے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! جس چیز پر حضور ﷺ نے جنگ کی ہے میں اسے چھوڑ دوں اس سے زیادہ مجھے یہ محبوب ہے کہ میں آسمان سے (زمین پر) گر پڑوں۔ لہٰذا میں تو اس چیز پر ضرور جنگ کروں گا۔چناںچہ حضرت ابوبکر نے (زکوٰۃ نہ دینے پر) عربوں سے جنگ کی یہاں تک کہ وہ پورے اِسلام کی طرف واپس آگئے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! ابوبکر کا یہ ایک دن خاندانِ عمر (کی زندگی بھر کے اعمال) سے بہتر ہے۔ 3
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ کا وصال ہو گیا تو عرب کے بہت سے لوگ مرتد ہو گئے اور کہنے لگے: ہم نماز تو پڑھیں گے مگر زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ میں نے حضرت ابوبکر کی خدمت میں آکر عرض کیا: یا خلیفۃ رسول اللہ! آپ