حیاۃ الصحابہ اردو جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کعبہ کی طرف جا رہے تھے کہ انھیں راستہ میں قریش کا ایک بے وقوف ملا جس نے اُن کے سر پر مٹی ڈالی۔حضرت ابوبکر کے پاس سے ولید بن مغیرہ یا عاص بن وائل گزرا، اس سے حضرت ابوبکر نے کہا: تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ یہ بے وقوف میرے ساتھ کیا کر رہا ہے؟ اس نے کہا: یہ تو تم خود اپنے ساتھ کر رہے ہو۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: اے میرے ربّ! تو کس قدر حلیم ہے۔ اے میرے ربّ! تو کس قدر حلیم ہے۔ اے میرے ربّ! تو کس قدر حلیم ہے۔2 صفحہ ۳۵۶ پر حضرت اسماء ؓکی حدیث گزر چکی ہے کہ چیخ و پکار کی آواز حضرت ابو بکر ؓ تک پہنچی۔ لوگوں نے اُن سے کہا: اپنے حضرت کو بچالو۔ حضرت ابو بکرہمارے پاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ اُن کی چار زلفیں تھیں اور وہ یہ کہتے جارہے تھے کہ تمہارا ناس ہو! کیا مارے ڈالتے ہو ایک مرد کو اس بات پر کہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور لایا ہے تمہارے پاس کھلی نشانیاں تمہارے رب کی۔ وہ حضور ﷺ کو چھوڑ کر حضرت ابو بکر پر ٹوٹ پڑے۔ پھر حضرت ابو بکر ہمارے پاس واپس آئے (اور کافروں نے آپ کو اتنا مارا تھاکہ )جس زلف کو بھی پکڑ تے وہ ہاتھ میں آجاتی (یعنی سر کے بال چوٹوں کی وجہ سے جھڑنے لگ گئے تھے)۔ اور وہ فرمارہے تھے: تَبَارَکْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِکْرَامِ! تو بہت برکت والا ہے اے بڑائی اور عظمت والے!حضرت عمر بن خطّاب ؓ کا مشقتیں برداشت کرنا حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر ؓ اِسلام لائے تو انھوں نے پوچھا کہ قریش میں سب سے زیادہ باتوں کو نقل کرنے والا کون ہے؟ انھیں بتایا گیاکہ جمیل بن معمر جمحی ہے۔ چناںچہ حضرت عمر صبح کو ان کے پاس گئے۔ حضرت عبداللہ (بن عمر) فرماتے ہیں کہ میں بھی حضرت عمر کے پیچھے پیچھے گیا۔ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کیا کرتے ہیں؟ میں بچہ تو ضرور تھالیکن جس چیز کودیکھ لیتا تھا اسے سمجھ لیتا تھا۔ حضرت عمر نے جمیل کے پاس جاکر اس سے کہا: اے جمیل! کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں مسلمان ہوگیاہوں اور محمد ﷺ کے دین میں داخل ہوگیا ہوں؟ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ (یہ سن کر) جمیل نے حضرت عمر کو کچھ جواب نہ دیا بلکہ کھڑے ہو کر اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے چل دیا۔ حضرت عمراس کے پیچھے چل دیے اور میں حضرت عمر کے پیچھے، یہاں تک کہ جمیل نے مسجدِ ( حرام ) کے دروازے پر کھڑے ہوکر زور سے پکار کر کہا: اے جماعتِ قریش! غور سے سنو! خطاب کا بیٹاعمر بے دین ہوگیا ہے۔ قریش کعبہ کے اِرد گرد اپنی اپنی مجلسوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت عمر نے جمیل کے پیچھے سے کہا: یہ غلط کہتا ہے، میں تو مسلمان ہواہوںاور کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لَّا