حیاۃ الصحابہ اردو جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
حضورﷺ سے کہا کہ حارث بن ہشام اور عبداللہ بن ابی ربیعہ تو زعفران والی چادریں پہنے ہوئے اپنی مجلس میں اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اب تم لوگ اُن کا کچھ نہیں کرسکتے ہو، کیوں کہ ہم ان کو اَمن دے چکے ہیں۔ حضرت حارث بن ہشام فرماتے ہیں کہ میں بہت دیر سوچتا رہا کہ حضور ﷺ نے مجھے مشرکین کی ہر لڑائی میں دیکھا ہے اب میں ان کی خدمت میں جاؤں گا تو اُن کی نگاہ مجھ پر پڑے گی تو اس سے مجھے بہت شرم آئے گی، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ آپ بہت نیک اور بہت رحم دل ہیں، اس لیے میں آپ کی خدمت میں حاضری کے لیے چل پڑا۔ جب میں آپ کے پاس پہنچا تو آپ مسجدِ حرام میں داخل ہورہے تھے۔ مجھے دیکھ کر آپ بہت خندہ پیشانی سے پیش آئے اور رُک گئے۔ میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر سلام کیا اور کلمۂ شہادت پڑھ لیا۔ آپ نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تم کو ہدایت دی۔ تمہارے جیسے آدمی کو اِسلام سے ناواقف نہیں رہنا چاہیے۔ حضرت حارث نے کہا: میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ اِسلام جیسے دین سے نا واقف نہیں رہنا چاہیے۔1حضرت نُضَیْر بن حارث عبدری ؓ کے اِسلام لانے کا قصہ حضرت محمد بن شُرَحْبِیْل عبدری کہتے ہیں کہ حضرت نضیر بن حارث ؓ لوگوں میں بڑے عالم تھے اور کہا کرتے تھے کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اِسلام کی دولت سے نوازا اور محمدﷺ کو بھیج کر ہم پر اِحسان فرمایا اور ہم اس دین پر نہیں مرے جس پر ہمارے آباء واَجداد مرے۔ میں (حضور ﷺ کے خلاف) قریش کے ساتھ ہر راستے پر کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ مکہ فتح ہوگیا اور آپ حنین تشریف لے گئے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ گئے۔ ہمارا اِرادہ یہ تھا کہ اگر حضور ﷺ کو شکست ہوئی تو ہم آپ کے خلاف آپ کے دشمنوں کی مدد کریں گے، لیکن یہ ہمارے لیے ممکن نہ ہوسکا۔ جب آپ جَعِرَّانہ پہنچے تو میں اپنے اسی ارادہ پر تھا کہ اچانک حضور ﷺ سے میری ملاقات ہوئی۔ آپ بڑے خوش تھے۔ آپ نے فرمایا: نضیر! میں نے کہا: جی حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم نے غزوۂ حنین کے دن جو کچھ کرنے کا سوچا تھا یہ اس سے بہتر ہے۔ میں لپک کر آپ کے ذرا اور قریب ہوا۔ آپ نے فرمایا: اب تمہارے لیے اس بات کا وقت آگیا ہے کہ تم اپنے دین کے بارے میں غور کرو۔ میں نے کہا: میں اس بارے میں پہلے سے سوچ رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا: اے اللہ! اس کو ثابت قدمی میں ترقی نصیب فرما۔ (حضورﷺ کی اس دعا کا یہ اثر ہوا) کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! دین پر پختگی میںاور حق کی مدد کرنے میں میرا دل پتھر کی طرح مضبوط ہوگیا۔ پھر میں اپنے گھر واپس آیاتو وہاں اچانک میرے پاس بنو دُئَل کا ایک آدمی آکر کہنے لگا: اے ابو الحارث! حضورﷺ نے تمہیں سو اُونٹ دینے کا حکم دیا ہے، مجھے ان میں سے کچھ اُونٹ دے دو، کیوں کہ مجھ پر بہت زیادہ قرضہ ہے۔ پہلے تو میرا ارادہ ہوا کہ یہ