حیاۃ الصحابہ اردو جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اُونٹ نہ لوں اور میں نے کہا کہ حضور ﷺ صرف میری تألیفِ قلب کے لیے دے رہے ہیں، میں اِسلام کے لیے رشوت لینا نہیں چاہتا ہوں۔ پھر میں نے سوچا کہ نہ تو ان اُونٹوں کی میرے دل میں طلب تھی اور نہ میں نے (حضورﷺ سے) مانگے (حضورﷺ خود ہی دے رہے ہیں) اس لیے میں نے وہ اُونٹ لے لیے اور ا ن میں سے دُئَلی کو دس اُونٹ دے دیے۔ 1طائف کے بنو ثقیف کے اِسلام لانے کا قصہ ابنِ اسحاق نے بیان کیا ہے کہ جب حضور ﷺ بنو ثقیف کے پاس سے واپس ہوئے تو (بنو ثقیف میں سے) حضرت عُروہ بن مسعود ؓ آپ کے پیچھے چل دیے اور مدینہ سے پہلے ہی حضورﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے اور مسلمان ہوگئے، اور حضورﷺ سے اس بات کی اجازت چاہی کہ اِسلام کو لے کر اپنی قوم کے پاس واپس جائیں۔ حضورﷺ نے ان سے فرمایا: وہ تمہیں قتل کردیں گے۔ آپ کو بنو ثقیف کے سابقہ رویہ سے یہ معلوم تھا کہ ان میں کِبْر اور ہٹ دھرمی ہے۔ حضرت عروہ نے کہا: یا رسول اللہ! میں انھیں اُن کی دوشیزہ لڑکیوں سے بھی زیادہ محبوب ہوں۔ اور وہ واقعی بنو ثقیف میں بہت محبوب تھے اور اُن کی بات مانی جاتی تھی۔ چناں چہ وہ اپنی قوم کو اِسلام کی دعوت دینے کے اِرادے سے واپس ہوگئے اور انھیں امید تھی کہ چوں کہ ان کا بنو ثقیف میں بڑا درجہ ہے اس لیے بنو ثقیف اُن کی مخالفت نہیں کریں گے۔ چناں چہ انھوں نے اپنے ایک بالاخانہ پر چڑھ کر ساری قوم کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کا اِظہار کیا اور انھیں اِسلام کی دعوت دی۔ بنو ثقیف نے ہر طرف سے تیر برسانے شروع کردیے، انھیں ایک تیر ایسا لگا جس سے وہ شہید ہوگئے۔ جب وہ زخمی ہوگئے تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے خون کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: یہ ایک اِعزاز ہے جو اللہ نے مجھے عطا فرمایا اور مجھے شہادت کا مرتبہ عطا فرمایا اور میرا بھی وہی درجہ ہے جواُن صحابہ ؓ کا تھا جو یہاں سے جانے سے پہلے حضور ﷺ کے ساتھ شہید ہوئے تھے، لہٰذا مجھے بھی اُن کے ساتھ دفن کردینا ۔ چناں چہ لوگوں نے اُن کو اُن ہی صحابہ ؓ کے ساتھ دفن کیا۔ صحابہ ؓ کہتے ہیںکہ حضور ﷺ نے ان عروہ کے بارے میں فرمایا تھا کہ سورۂ یٰس میں جن (حبیب نجار) کے ساتھ اُن کی قوم کا جو معاملہ ذکر کیا گیا ہے حضرت عروہ کے ساتھ ان کی قوم نے ویسا ہی معاملہ کیا ہے۔ حضرت عروہ کی شہادت کے چند مہینوں کے بعد بنوثقیف نے آپس میں بیٹھ کر یہ سوچا کہ اِرد گرد کے تمام عرب حضورﷺ سے بیعت ہوکر مسلمان ہوچکے ہیں، اب ان سے لڑنے کی طاقت نہیں رہی۔ اور یہ فیصلہ کیا کہ اپنا ایک آدمی حضورﷺ کے پاس بھیجیں۔ چناں چہ عبدِیالِیْل بن عمرو کے ساتھ بنی اَحلاف کے دو آدمی اور بنی مالک کے تین آدمی بھیجے۔ یہ لوگ مدینہ کے قریب پہنچ کر