حیاۃ الصحابہ اردو جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
بھلا ایک جو بندگی میں لگا ہوا ہے رات کی گھڑیوں میں سجدے کرتا ہوا اور کھڑا ہوا، خطرہ رکھتا ہے آخرت کا، امید رکھتا ہے اپنے رب کی مہربانی کی، تو کہہ کوئی برابر ہوتے ہیں سمجھ والے اور بے سمجھ ؟قرآن مجید سے پہلی کتابوں میں حضورﷺ اور صحابۂ کرام ؓ کا تذکرہ عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓسے ملا تو میں نے اُن سے کہا کہ مجھے حضورﷺ کی وہ صفات بتائیں جو تورات میں آئی ہیں۔ انھوں نے فرمایا: بہت اچھا، خدا کی قسم !تو رات میں بھی آپ کی وہی صفات بیان ہوئی ہیں جو قرآن مجید میں ہیں ۔ (چناں چہ تورات میں ہے) اے نبی! ہم نے آپ کو گواہ اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والااور اُمیوں کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں۔ میں نے آپ کا نام مُتوکل رکھا ہے۔ نہ آپ سخت گو ہیں، نہ سخت دل ، نہ بازاروں میں شور کرنے والے ہیں، اور نہ آپ برُائی کا بدلہ برُائی سے دیتے ہیں، بلکہ آپ عفوو در گزر سے کام لیتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ آپ کو اس وقت دنیا سے اٹھائیں گے جب کہ لوگ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہہ کر ٹیڑھے دین کو سیدھا کرلیں گے۔ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اندھی آنکھوں کو اور بہرے کانوں کو اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو کھول دیں گے۔ 1 حضرت وَہب بن مُنَبِّہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زبور میں حضرت داؤد ؑ کو یہ وحی فرمائی کہ اے داؤد! تمہارے بعد عنقریب ایک نبی آئے گا جس کا نام احمد اور محمد (ﷺ) ہوگا۔ وہ سچے اور سردار ہوں گے، میں اُن سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا اور نہ ہی وہ مجھے کبھی ناراض کریں گے۔ اور میں نے اُن کی اگلی پچھلی تمام لغزشیں کرنے سے پہلے ہی معاف کردی ہیں۔ اور آپ کی اُمت میری رحمت سے نوازی ہوئی ہے۔ میں نے اُن کو وہ نوافل عطا کیے جو انبیا کو عطا کیے اور ان پر وہ چیزیں فرض کیں جو انبیا اور رسولوں پر فرض کیں، حتیٰ کہ وہ قیامت کے دن میرے پاس اس حال میں آئیں گے کہ اُن کا نور انبیا کے نور جیسا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں تک فرمادیا کہ اے داؤد ! میں نے محمد(ﷺ) کو اور آپ کی اُمت کو تمام اُمتوں پر فضیلت دی ہے۔1 حضرت عبداللہ بن عمروؓنے حضرت کعب سے فرمایا کہ مجھے حضورﷺ اور آپ کی اُمت کی صفات بتائیں۔ انھوں نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی کتاب (تورات) میں اُن کی یہ صفات پاتا ہوں کہ احمدﷺ اور ان کی اُمت اللہ کی خوب تعریف