حیاۃ الصحابہ اردو جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مجھے وہ رسی دینے سے اِنکار کر دیں جسے وہ حضور ﷺ کو دیا کرتے تھے اور پھر درخت اور پتھر اور تمام انسانوں اور جنّات ان کے ساتھ مل کر مقابلہ پر آجائیں تو بھی میں ان سے جہاد کروں گا، یہاں تک کہ میری روح اللہ سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے نہیں کیا کہ پہلے نماز اور زکوٰۃ کو الگ الگ کر دیا ہو پھر ان دونوں کو اِکٹھا کر دیا ہو (لہٰذا میں یہ کیسے کرسکتا ہوں کہ عرب کے لوگ صرف نماز پڑھیں اور زکوٰۃ نہ دیں اور میں انھیں کچھ نہ کہوں)۔ یہ سن کر حضرت عمر نے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا اور فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابوبکر کے دل میں ان (مانعینِ زکوٰۃ) سے جنگ کرنے کا پختہ عزم پیدا فرما دیا ہے تو اب مجھے بھی یقین ہو گیا ہے کہ یہی حق ہے۔ 2
حضرت صالح بن کیسان فرماتے ہیں کہ (حضور ﷺ کے انتقال کے بعد) جب ارتداد پھیلنے لگا تو حضرت ابو بکر ؓ نے کھڑے ہو کر اللہ کی حمد وثنا بیان فرمائی اور پھر فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہدایت دی اور وہی کافی ہوگیا (کسی اور سے ہدایت لینے کی ضرور ت نہیں )۔ اور جس نے اتنا دیا کہ کسی سے لینے کی ضرورت نہ رہی غنی بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو اس حال میں مبعوث فرمایا تھا کہ (اللہ والا) علم بے سہارا تھا اور اِسلام اجنبی اور ٹھکرایا ہوا تھا، اس کی رسی کمزور ہو چکی تھی، اور اِسلام کا زمانہ پرانا ہوچکا تھا (اب اس کا نام لینے والا کوئی نہ رہا تھا) اور اِسلام والے اِسلام سے بھٹک چکے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ اہلِ کتاب پر ناراض تھے، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جو بھی خیر دی تھی وہ اُن کی کسی خوبی کی وجہ سے نہیں دی تھی۔ اور چوں کہ ان کے پاس (برائیاں ہی برائیاں) اور شر ہی شر تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان سے برے حالات کو نہیں ہٹایا تھا۔ اور انھوں نے اللہ کی کتاب کو بدل دیا تھا اور اس میں بہت سی باہر کی باتیں شامل کر دی تھیں۔ اور اَن پڑھ عرب اللہ سے بالکل بے تعلق تھے، نہ وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور نہ اس سے دعا کرتے تھے۔ وہ سب سے زیادہ تنگ معیشت والے تھے، اور ان کا دین سب سے زیادہ گمراہی والا تھا، وہ سخت اور بے کار زمین کے رہنے والے تھے (یہ حالات تھے۔ اور) حضور ﷺ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی برکت سے جمع فرما دیا اور اُن کو سب سے افضل اُمت بنا دیا اور اُن کا اِتباع کرنے والوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی مدد فرمائی اور دوسروں پر اُن کو غالب فرمایا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اپنے ہاں بلا لیا۔ اور اب ان عربوں پر شیطان اسی جگہ سوار ہونا چاہتا ہے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے اسے اُتارا تھا، وہ ان کے ہاتھ پکڑ کر انھیں ہلاک کرنا چاہتا ہے اور یہ آیت پڑھی:
{وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُط اَفَاOئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰی اَعْقَابِکُمْط وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًاط وَسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ O}1
اور محمد (ﷺ) تو ایک رسول ہے، ہوچکے اس سے پہلے بہت رسول۔ پھر کیا اگر وہ مر گیا یا مارا گیا تو تم پھر جائو گے اُلٹے پائوں، اور جو کوئی پھر