حیاۃ الصحابہ اردو جلد 1 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
نہیں ہوگی۔1حضرت صفوان بن اُمیَّہ اور دوسرے حضرات ؓ سے ہجرت کے بارے میں جو کہا گیا اس کا بیان حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان بن اُمیّہؓ مکہ کے بالائی حصہ میں تھے۔ ان سے کسی نے کہا کہ جس نے ہجرت نہ کی اس کا کوئی دین نہیں ہے (اس کا دین کامل نہیں بلکہ ناقص ہے)۔ تو انھوں نے کہا: جب تک میں مدینہ نہ ہو آؤں اپنے گھر نہیں جاؤں گا۔ چناںچہ یہ مدینہ پہنچے اور حضرت عباس بن عبدالمطّلب کے ہاں ٹھہرے۔ پھریہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے ابو وہب! تم کس لیے آئے ہو؟ حضرت صفوان نے کہا: مجھ سے یہ کہا گیا ہے کہ جو آدمی ہجرت نہ کرے اس کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: اے ابو وہب! تم مکہ کے پتھریلے میدانوں میں واپس جاؤ اور اپنے گھروں میں رہو۔ اب(مکہ سے مدینہ کی) ہجرت تو ختم ہوگئی، لیکن جہاد اور نیتِ (جہاد) باقی ہے، لہٰذا جب تم لوگوں سے (اللہ کی راہ میں) نکلنے کا مطالبہ کیا جائے تو تم نکل جایا کرو۔2 حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان بن اُمیّہؓ سے کہا گیا کہ جس کی ہجرت نہیں ہے وہ ہلاک و برباد ہوگیا۔ تو حضرت صفوان نے قسم کھائی کہ جب تک وہ حضور ﷺ کی خدمت میں ہو نہیں آئیں گے وہ اپنا سر نہیں دھوئیں گے۔ چناںچہ وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر چل پڑے۔ جب مدینہ پہنچے تو حضور ﷺ کو مسجد کے دروازے پرپایا تو انھوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! مجھ سے یہ کہا گیا ہے جس نے ہجرت نہ کی وہ ہلاک ہوگیا، تومیںنے قسم کھائی کہ جب تک آپ کی خدمت میں حاضر نہ ہو جاؤں گا اس وقت تک میں اپنا سرنہیںدھوؤںگا۔ آپ نے فرمایا: صفوان نے اِسلام کے بارے میں سنا اور وہ اس کے دین ہونے پر دل سے راضی ہے۔ ہجرت توفتحِ مکہ کے بعد ختم ہوگئی ہے، لیکن اب جہاد باقی ہے اور نیتِ(جہاد) باقی ہے۔ اور جب تم سے (اللہ کی راہ میں) نکل جانے کا مطالبہ کیا جائے تو تم نکل جایا کرو۔1 حضرت صالح بن بشیربن فُدَیک بیان کرتے ہیں کہ اُن کے دادا حضرت فُدَیک ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگ یہ کہتے ہیں کہ جس نے ہجرت نہ کی وہ ہلاک ہوگیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے فُدَیک! نماز قائم کرو، زکوٰۃ اداکرو، اور برائی چھوڑ دو، اوراپنی قوم کی سر زمین میں جہاں چاہے رہو تم مہاجر شمار ہوگے (کیوں کہ ہجرت کا حکم ختم ہوگیا ہے اور دوسرے اَحکام باقی ہیں اس لیے انھیں پوراکرو)۔2 حضرت عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبید بن عمیر لَیْثی کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ کی ملاقات کے لیے گیا۔ ہم نے آپ سے ہجرت کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: آج ہجرت (کا حکم باقی نہیں)ہے۔ (ہجرت کاحکم اس وقت